03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں بھول کر تین سجدے کرنے کا حکم
89336نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ امام صاحب نماز کی ایک رکعت میں تین سجدے کردیتے ہیں بھول کر اور سجدہ سہو بھی نہیں کرتے تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟ اعادہ لازم ہے یا نہیں؟ اگر جماعت دوبارہ پڑھا دی تو اس کا کیا حکم ہے؟تنقیح:سائل نے مزید بتایا کہ امام صاحب بھی مانتا ہے کہ اس نے تین سجدے کیے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص ایک رکعت میں تین سجدے کردے  اور سجدہ سہوہ بھی نہ کرے  تو نماز مکروہ تحریمی ہوجاتی ہے۔

ایسی صورت میں نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے۔ یاد رہے جب امام صاحب فرض نماز کو دوبارہ وقت کے اندر باجماعت لوٹا رہے ہوں۔ اس دوران اگر کوئی ایسا شخص جماعت میں شریک ہوجائے جو مکروہ نماز میں امام صاحب کے ساتھ  شریک نہ تھا  تو اس کی نماز نہیں ہوگی، کیونکہ ان لوگوں کی فرض نماز تو پہلی جماعت سے ادا ہوگئی ہے،  یہ دوبارہ اس لیے پڑھ رہے ہیں تاکہ اس اول نماز میں جو سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے کمی رہ گئی ہے اس کو پورا کریں اور یہ نیا بندہ کامل فرض ادا کرنے آیا ہےلہذا اس کی اقتدا درست نہیں ہوگی۔

امام صاحب کے لیے نمازکا  لوٹانا ضروری تھا  کیونکہ ایسی نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔

حوالہ جات

الأصل للإمام محمد بن الحسن الشیبانی:(1/242)

قلت أرأيت رجلا صلى فسجد في ركعة ثلاث سجدات أو أربعا هل يفسد ذلك صلاته قال لا إلا أن عليه سجدتي السهو.

الفتاوی الھندیۃ:(1/109)

فإن كانت تلك الكراهة كراهة تحريم تجب الإعادة أو تنزيه تستحب فإن الكراهة التحريمية في رتبة الواجب كذا في فتح القدير.

بدائع الصنائع:(1/164)

وكذا إذا ركع في موضع السجود أو سجد في موضع الركوع أو ‌ركع ‌ركوعين أو سجد ثلاث سجدات لوجود تغيير الفرض عن محله أو تأخير الواجب.

ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/65)

وقد علمت أيضا ترجيح القول بالوجوب، فيكون المرجح وجوب الإعادة في الوقت وبعده.

البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(2/105)

لو ركع ركوعين أو سجد ثلاثا في ركعة لزمه السجود لتأخير الفرض وهو السجود في الأول والقيام في الثاني.

التاترخانیۃ:(2/412)

فإن کان من نیتہ حین سلم أن یسجد للسھو فلم یسجد حتی تکلم، أو خرج من المسجد، فقد قطع صلوتہ ولاشیئ علیہ، فإن لم یتکلم ولم یخرج عن المسجد، وکان فی محلہ ذلک حتی تذکر أن علیہ السھو فإنہ یسجدہ.

ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/91)

(قوله ‌ويسجد ‌للسهو ولو مع سلامه للقطع) أي قطع الصلاة، وعدم العود إليها بالسجود، قيد بالسهو لأنه لو سلم ذاكرا أن عليه سجدة تلاوة أو قراءة التشهد الأخير سقطت عنه لأن سلامه عمد فيخرجه من الصلاة. ولا تفسد صلاته لأنه لم يبق عليه ركن من أركان الصلاة بل تكون ناقصة لترك الواجب.

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:(27)

"وإعادتها بتركه عمدا" أي ما دام الوقت باقيا وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم.

المبسوط للسرخسی:(1/228)

قال: (وإذا سها المصلي فسجد في ركعة واحدة ثلاث سجدات أو ركع ركوعين لم تفسد صلاته) لما بينا أنه إنما زاد ما دون الركعة.

زبیر احمد بن شیر جان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب