03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کاوالد سے اپنی ذاتی رقم سے خریدی گئی زمین کامطالبہ کرنا،اورحدیث “أنت ومالك لأبيك”کامطلب
89339جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

والد صاحب نے ہم بہن بھائیوں سے زمین کی خریداری کے لیے رقم طلب کی اور کہا: ہر فرد کو اس کی ادا کردہ رقم کے عوض رقبہ دیا جائے گا، جو کسی بھی طرح کم نہیں کیا جائے گا اور مطالبہ شدہ رقبہ کاغذی طور پر منتقل کیا جائے گا۔زمین خریدی گئی ، مگر والد صاحب نے چھوٹے بھائی کے نام منتقل کر دی، جبکہ باقی سب ملازمت کے سلسلے میں گھر سے باہر تھے۔ تقریباً چند سال سے یہ تمام رقبہ والد صاحب اور بھائیوں کے زیر استعمال ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ رقبہ میں سے میرا حصہ جو  بنتاہےوہ دیاجائےاور  میرے نام منتقل کیا جائے (بذریعہ امام مسجد یہ مطالبہ کیاگیا)،کیونکہ میں بے روزگار ہوں اور اس کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا رقبہ نہیں ہے۔ والد صاحب کا جواب: حدیث ہے: "تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے" میں چاہوں تو تمہیں کچھ دوں یا نہ دوں اور مجھے کاغذی طور پرانتقال دینے سے انکار کر رہے ہیں، اور مذکورہ بالا معاہدہ بھی کوئی تحریری طور پر قائم نہیں ہے۔  کیا میرا مطالبہ، یعنی مندرجہ بالا رقبہ جو میری ذاتی رقم سے خریدا گیا، میرے نام منتقل کرنے کا جائز ہے اور کیا میں اس کا حقدار ہوں۔اور کیا والد صاحب کا جواب بحوالہ حدیث،درست ہے۔ کیا شریعت انہیں اختیار دیتی ہے کہ وہ میری ذاتی رقم سے خریدی گئی زمین نہ دے  اور معاہدہ کی  کی خلاف ورزی کر ے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ کے مطابق آپ نے جتنی رقم زمین کے لیے ادا کی ہے، اتنی ہی رقم کے بقدرجتنی ز مین بنتی ہے وہ آپ کاحق ہے لہذااس  کا مطالبہ کرنا شرعاًجائز ہے۔ والداوربھائیوں کوچاہیےکہ آپ کاحق آپ کے حوالے کردیاجائےان  کے لیےجائز نہیں کہ وہ آپ کو آپ کےحق سے محروم رکھیں۔

  حدیثِ مبارک "أنت ومالك لأبيك" (تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے)، کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ والد اپنی اولاد کے مال میں جب چاہے اور جیسے چاہے مطلق تصرّف کا اختیار رکھتا ہے۔بلکہ  اس کامطلب یہ ہے کہ تنگی کی حالت میں بقدر ضرورت اولادکے مال سے استفادہ کی گنجائش ہے ۔

جب والد صاحب نے وعدہ کرکےپیسے لیے تھے توانہیں وعدہ وفاکرنے کے بارے میں آیات اوراحادیث پر عمل کرناچاہیے۔اس حدیث کاسہارابے محل ہے۔

حوالہ جات

تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (3/143):

 إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلهاوإذا حكمتم بين الناس أن تحكموا بالعدل: وهذا يعم جميع الأمانات الواجبة على الإنسان... ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغير ذلك مما يأتمنون به بعضهم على بعض.

سنن ابن ماجه (2/809  ):

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لصاحب الحق:خذ حقك في عفاف واف، أو غير واف.

تفسير الطبري (7/172):

وأما الذي قال ابن جريج من أن هذه الآية نزلت في عثمان بن طلحة، فإنه جائز أن تكون نزلت فيه وأريد به كل مؤتمن على أمانة... ولذلك قال من قال: عنى به قضاء الدين ورد حقوق الناس.

المحيط البرهاني (8/330):

وإذا شهد الشهود أن هذا العين ملك هذا المدعي، وفي يد هذا المدعى عليه بغير حق، ولم يقولوا: فواجب عليه قصر يده عنه، وتسليمه إلى هذا المدعي.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (5/301):

قال النبي صلى الله عليه وسلم: "أنت ومالك لأبيك"، وعمومه يقضي جواز أخذ مال الابن في حال اليسار والإعسار، إلا أن الفقهاء متفقون على أنه لا يجوز له أخذه بغير رضاه في حال اليسار، فخصصناه، وبقي حكم العموم في حال الإعسار في مقدار الحاجة.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

19/جمادی الآخرۃ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب