| 89399 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میرا نام نشاط احمد ہے۔مجھے ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے،وہ یہ کہ میرا ایک عزیز محمد عارف مجھے کہتا ہے کہ جو زمین آپ کووراثت میں ملی ہے،اس میں تھوڑی سی زمین فالتو ہے۔ آپ کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ یہ جو تھوڑی سی زمین فالتو ہے یہ میں تمہیں دوں گا۔ اب اس کے لیے وہ کہتا ہے : یہ بات صرف میرے اورآپ کے والد راؤ محمد افضل کے درمیان ہوئی تھی اورکوئی دوسرا شخص اس کا گواہ نہیں ہے ، اس لیےمیں قرآن پاک اٹھانے کو بھی تیار ہوں۔
میں نے باقی ورثاء سے اس بارے میں پوچھا مگر کسی کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ،حالانکہ میرے والد صاحب گھر میں ساری باتیں کرتے اور بتا دیتے تھے، وہ ڈائری بھی لکھتے تھے،جبکہ یہ تو بہت اہم بات ہے مگر کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اب میں اس سلسلے میں کیا کروں؟ کیونکہ میرے پاس شرعی وراثت میں آئی ہے، اور میں چاہ رہا ہوں کہ اس معاملے میں جو بھی شریعت کا حکم ہے اس پر عمل کروں۔اب اسی حوالے سے میرے یہ تین سوال ہیں:
۱۔ عارف کا یہ کہنا ہے کہ میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں انہیں کہا تھا کہ میں تمہیں زمین دوں گا،تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
۲۔ ہمارے ہاں پنچائت میں لوگ قرآن پاک اٹھاتے ہیں، اور وہ مجھے کہتا ہے کہ میں قرآن اٹھاتا ہوں، کیونکہ گواہ تو کوئی نہیں تھا ۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
۳۔ اگر زمین فالتو ہوئی جس کا مجھے کچھ پتا نہیں ،کیونکہ میں یہاں پر نہیں تھا ،اس لیے اگر اس میں کچھ فالتو ہوئی تو وہ میں کس کو دوں؟ اگر اس کا حق دار ہو تو اس کو دوں،اور اگر کوئی حق دار نہیں تو اللہ واسطے کسی کو دے دوں یا پھر عارف کو دوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا تفصیل درست ہونے کی صورت میں آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات یہ ہیں:
۱۔آپ کے والد صاحب کا اپنی زندگی میں عارف کو یہ کہنا کہ میں تمہیں فالتو زمین (جواگر واقعتاً ان کی ملکیت نہیں تھی) دوں گا،تو یہ دراصل کسی دوسرے کی زمین ہبہ کرنے کا وعدہ ہے،جس کو پورا کرنے کے بجائے ان کو یہ فالتو زمین اس کے اصل مالک کو واپس کرنا ضروری تھا،بہرحال صرف اتنا کہنے سے نہ تو یہ زمین عارف کی ہوئی اور نہ ہی اس میں عارف کا کوئی حق ثابت ہوتا ہے۔
۲۔صورتِ مسئولہ میں عارف کا اس زمین میں اپنے لیے حق کا یہ دعویٰ ہی صحیح نہیں ،کیونکہ ان کا دعویٰ ایسی چیز اور وعدۂ ہبہ سے متعلق ہے کہ اس دعویٰ کو ثابت فرض کر لینے سے بھی مدعیٰ علیہ پریہ وعدہ پورا کرنا لازم نہیں ہے، لہذا اس دعویٰ پر نہ تو کوئی گواہ قائم کرنے کی،اور نہ ہی قرآنِ پاک اٹھا کر قسم کھانے کی ضرورت ہے ۔اگر بالفرض عارف کا دعویٰ درست بھی ہوتا تو عارف کوقرآنِ پاک اٹھا کر قسم کھانےکی ضرورت نہ ہوتی ،بلکہ ان پر دعویٰ کے ثبوت کے لیے گواہ لانا ہی ضروری ہوتا۔اور گواہ نہ ہونے کی صورت میں قسم آپ کے ذمہ ہوتی۔
۳۔والدمرحوم کے ترکہ میں چھوڑی گئی متعلقہ زمین کی سرکاری ریکارڈ میں درج حدود کے مطابق پیمائش کر کےاس میں جوکسی دوسرے کا حصہ شامل ہو چکا ہو، تو اس کے اصل مالک کو معلوم کرکے یہ اضافی زمین اسے واپس کی جائے، اگر وہ فوت ہوچکا ہوتو اس کے ورثہ کے حوالے کی جائے۔
جبکہ اس کے علاوہ والدمرحوم نے اپنی وفات کے وقت جو کچھ رقم، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی ہو،تواس میں سے پہلےمرحوم کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تووہ ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت اس کے زندہ ورثہ میں کسی بھی معتبر دارالافتاء سے ترکہ میں ان کے حصے معلوم کرکے تقسیم کیا جائے۔
حوالہ جات
أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (5/ 333):
يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون...قال أبو بكر: يحتج به في أن كل من ألزم نفسه عبادة أو قربة وأوجب على نفسه عقدا لزمه الوفاء به، إذ ترك الوفاء به يوجب أن يكون قائلا ما لا يفعل، وقد ذم الله فاعل ذلك ،وهذا فيما لم يكن معصية ،فأما المعصية فإن إيجابها في القول لا يلزمه الوفاء بها،وقال النبي- ﷺ- لا نذر في معصية، وكفارته كفارة يمين. وإنما يلزم ذلك فيما عقده على نفسه مما يتقرب به إلى الله عز وجل، مثل النذور، وفي حقوق الآدميين العقود التي يتعاقدونها، و كذلك الوعد بفعل يفعله في المستقبل وهو مباح، فإن الأولى الوفاء به مع الإمكان، فأما قول القائل : إني سأفعل كذا، فإن ذلك مباح له على شريطة استثناء مشيئة الله تعالى، وأن يكون في عقد ضميره الوفاء به.
سنن الترمذي ت بشار (3/ 19):
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، قال: حدثنا محمد بن يوسف، قال: حدثنا نافع بن عمر الجمحي، عن عبد الله بن أبي مليكة، عن ابن عباس، أن رسول الله - ﷺ- قضى أن اليمين على المدعى عليه.هذا حديث حسن صحيح. والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي - ﷺ- ، و غيرهم: أن البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.
مجلة الأحكام العدلية (324):
المادة (1630): يشترط أن يحكم ويلزم المدعى عليه بشيء في حالة ثبوت الدعوى، مثلا لو أعار أحد آخر شيئا ،وظهر شخص آخر وادعى قائلا: أنا من ذويه فليعرني إياه لا تصح دعواه.
معین القضاۃ والمفتین (71،72)،مکتبۃ دارالعلوم الشرعیۃ:
الشرط السابع:یشترط أن تکون الدعویٰ ملزمۃ للخصم علیٰ شیئ علیٰ فرض ثبوتھا،فلو لم یترتب علیھاإلزام الخصم بشیئ علیٰ فرض ثبوتھا لم تصح...لو ادعیٰ رجل علیٰ رجل ھبۃ ، والھبۃ لاتلزم بالقول وللواھب الرجوع ما لم تقبض ،فلا یصح ولا یلزم المدعیٰ علیہ الجواب عن ذلک.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 98،99):
وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة...(قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، وهذا معنى قوله وقيده في الظهيرية إلخ...والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/جمادی الآخرہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


