03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفالت کی شرط کے ساتھ قرضہ دینےکا حکم
89315سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

ہماریOil and Gas کمپنی ملازمین کوبلا سود کے قرضے دیتی ہے گھر بنانے کے لیے گاڑی خریدنے کے لیے،وغیرہ۔ جو لوگ یہ قرضے لیتے ہیں ان سے قرضے کی اصل رقم کے علاوہ ایک اور اضافی رقم کاٹی جاتی ہے جو کہ اگر کوئی قرض لینے والا کمپنی کا ملازم فوت ہو جائے تو اس کے قرضے کی رقم ان تمام قرضے والوں سے وصول کی جاتی ہے۔ اس رقم کو کمپنی کسی اکاؤنٹ میں محفوظ نہیں کرتی بلکہ جب کوئی بندہ فوت ہو جاتا ہے تو کمپنی اس بندے کے قرضے کی رقم اپنی یعنی کمپنی کی طرف سے ادا کر دیتی ہے اور آئندہ عرصے میں باقی جتنے لوگوں نے قرضہ لیا ہے ان پر وہ رقم تقسیم کر کے ان سے وصول کر لیتی ہے۔ چنانچہ جو اضافی رقم قرض لینے والے ملازمین سے لی جاتی ہے وہ مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ ہر سال جتنے لوگ فوت ہو گئے ہوں تو ان کی قرضے کی رقم کے موافق باقی ملازمین سے اضافی رقم لی جاتی ہے۔ جو کم و بیش ہوتی رہتی ہے عام طور سے یہ اوسطا %0.4 ہوتی ہے۔ برائے مہربانی اس مندرجہ بالا صورت میں واضح فرمائیں کہ ایسا قرضہ لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی ملازمین کے ساتھ یہ معاہدہ  کر رہی ہو کہ تمام قرض دار ملازمین ایک دوسرے کے کفیل ہوں گےاور اصل قرض کے علاوہ جو اضافی رقم لی جاتی ہے وہ اس مقصد کے لیے ہو کہ اگر کوئی  قرض دار ملازم فوت ہو جائے تو اس کی طرف سے باقی ماندہ قرض کی ادائیگی اسی جمع شدہ رقم سے کی جائے گی تو ایسی صورت میں یہ معاہدہ شرعاً درست ہوگا، کیونکہ یہ تعاون اور باہمی کفالت کی نیت سے ہے، نہ کہ سود یا ناجائز منافع کی بنیاد پر۔ البتہ اگر معاہدے میں اضافی رقم لینے کی کوئی شرط تو نہ ہو، لیکن بعد میں جبراً وصول کی جا رہی ہوتو یہ جائز نہیں ۔   البتہ پھر بھی  یہ سودی قرضہ نہیں کہلائے گا،لہذا ملازمین کو گناہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 235):

تصح‌‌ الكفالة بالمال ولو كان المال مجهولا وصحتها بالإجماع وصحت مع جهالة المال لبنائها على التوسع، ولذا جاز شرط الخيار فيها أكثر من ثلاثة ويدل عليه إجماعهم على صحتها بالدرك مع أنه لا يعلم كم يستحق من المبيع كله أو بعضه والدين الصحيح ما لا يسقط إلا بالأداء أو الإبراء.

شرح معاني الآثار - ط مصر (4/ 241):

عن عمرو بن يثربي، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال «لا يحل لامرئ من ‌مال ‌أخيه شيء ‌إلا ‌بطيب ‌نفس منه.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (7/ 77):

عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا، ‌فقدمت ‌عليه ‌إبل ‌من ‌إبل ‌الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي للرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع فقال: لم أجد فيها إلا جملا خيارا رباعيا، فقال: أعطه إياه، إن من خيار الناس أحسنهم قضاء.

   محمد طلحہ فلک شیر

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/جمادی الثانیۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب