| 89519 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ ایک بچی کی عمر تقریباً 13 سال ہے، اور اس کو قرآنِ مجید حفظ کروانے کا ارادہ ہے۔ لیکن والدین کو یہ خدشہ ہے کہ اس عمر میں یا کچھ عرصے بعد بچی کو حیض (ماہواری) شروع ہو جائے گی، جس کی وجہ سے حفظِ قرآن میں رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں: (1)کیا اس عمر میں بچی کو حفظِ قرآن کے لیے لگانا شرعاً درست ہے؟ (2) حیض کے ایام میں بچی کا قرآن حفظ کرنا، دہرائی کرنا یا سبق یاد کرنا کیسا ہے؟(3) اگر مصحف (قرآنِ پاک) کو ہاتھ لگانا جائز نہ ہو تو موبائل یا اسکرین سے سبق یاد کرنے کا کیا حکم ہے؟(4) کیا حیض کی وجہ سے حفظ کو مؤخر کرنا بہتر ہے یا مناسب طریقہ اپنا کر حفظ جاری رکھا جا سکتی ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح اور تفصیلی رہنمائی فرمائیں، تاکہ والدین صحیح فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بچی کو قرآنِ کریم حفظ کرانے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ کم عمر ی ہی میں حفظِ قرآن شروع کیا جائے، تاکہ بالغ ہونے سے پہلے ہی حفظ مکمل ہوجائے۔ تاہم اگر بالغ ہوجائے تو بھی بچی کو قرآن حفظ کرانا چاہیں تو کراسکتے ہیں۔ البتہ بلوغت کے بعد یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ پاکی کے دنوں میں حفظ کرے، اور حیض کے دنوں میں ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے سے، یا کسی کپڑے کے حائل کے ساتھ قرآنِ کریم کھول کر، یا اسکرین پر کھول کر بغیر تلفظ کے دل میں دہرایا جائے۔ نیز اگر اس طریقے سے بغیر تلفظ کے حفظ کرنا ممکن ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان دنوں میں سابقہ حفظ کیے ہوئے کو پختہ کرنے کی غرض سے دل دل میں دہراتی رہے ، زبان سے الفاظ ادانہ کرے ۔
اوراگر اسکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہو تو اسکرین کے شیشہ حائل ہونے کی وجہ سے نیز جوعکسِ تحریر اور نقوش ہمیں نظر آتے ہیں بعض علماء کے ہاں وہ لکھی ہوئی آیاتِ مبارکہ کے حکم میں نہیں ، اس لیے وضوکے بغیر ان پر ہاتھ لگانے کی گنجائش ہے ۔ البتہ قرآنِ پاک کی عظمت اوراس کے ادب واحترام کا تقاضا یہی ہے کہ موبائل سے تلاوت کے وقت بھی وضو کا اہتمام کیا جائے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 33)
وليس للحائض والجنب والنفساء قراءة القرآن " لقوله صلى الله عليه وسلم " لا تقرأ الحائض والجنب شيئا من القرآن.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 168)
وقالوا: إذا حاضت المعلمة تعلم كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين وعلى قول الطحاوي نصف آية.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 61)
واختلف التصحيح فيما دون الآية وإطلاق المنع هو المختار لقوله صلى الله عليه وسلم لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن والنفساء كالحائض "و" يحرم "مسها" أي الآية لقوله تعالى {لا يَمَسُّهُ إِلَّاالْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 79] سواء كتب على قرطاس أو درهم أو حائط "إلا بغلاف" متجاف عن القرآن والحائل كالخريطة في الصحيح ويكره بالكم تحريما لتبعيته للابس.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 61)
ويجوز تقليب أوراق المصحف بنحو قلم للقراءة.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 216)
وهل يكره لها مس المصحف بكمها أو ذيلها؟ قال بعض مشايخنا: يكره لأن الكم والذيل تبع لها. ألا ترى لو حلف لا يجلس على الأرض فجلس عليها مفترشاً ثوبه يحنث في يمينه، وجعل ثوبه تبعاً له حتى لم يعتبر حائلاً. وعامتهم على أنه لا يكره لأن المحرّم هو المس وإنه اسم للمباشرة باليد من غير حائل. ألا ترى أن المرأة إذا وقعت في ردغة حلّ للأجنبي أن يأخذ بيدها بحائل ثوب، وكذا حرمة المصاهرة لا تثبت بالمسّ بحائل بخلاف مسألة اليمين لأن مبنى الأيمان على العرف والجالس على الأرض بثوبه يعد جالساً على الأرض عرفاً وعادة.
ولا بأس لها بأن تمس المصحف بغلاف، والغلاف هو الجلد الذي عليه في أصح القولين. وقيل: هوالمنفصل كالخريطة ونحوها لأن المتصل بالمصحف من المصحف. ألا ترى أنه يدخل في بيع المصحف من غير ذكر، وهو نظير الاختلاف في المس بالكم.
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
متخصص فی الافتاء ،دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
6/رجب/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


