| 89227 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
ایک ضعیف العمر صاحب حال ہی میں عمرہ کے سفر پر گئے تھے۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد انہوں نے اپنے احرام پر پاخانے کے کچھ نشانات دیکھے جو مقدارِ معفو عنہ سے زیادہ تھے۔ تاہم انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ یہ نجاست کب لگی یا کب نکلی۔ غالب گمان سے بھی کچھ واضح نہیں ہو پا رہا کہ یہ حالتِ احرام میں لگی یا عمرہ ادا کرنے کے بعد۔ ایسی صورت میں گزارش ہے کہ درج ذیل دو امور کی وضاحت فرما دی جائے: (1) کیا ان کا عمرہ ادا ہوگیا یا اعادہ لازم ہے؟(2) ان پر کتنی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا (اگر ہوگا)؟ جزاکم اللہ خیراً
نوٹ : سائل نے زبانی بتایا کہ اگرچہ وہ ضعیف العمر ہے، لیکن ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا، بلکہ وہ عام آدمی جیسا ہے ، معذور نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ نجاست نکلنے یا لگنے کے وقت کے بارے میں اس کو کوئی علم نہیں ،لہذا یہی سمجھاجائے گا کہ عمرے کے ارکا ن باوضو اداکیے ہیں ۔ نیز ناپاک کپڑے میں طواف کرنے سے دم واجب نہیں ہوتا، پس اس کا عمرہ اداء ہوگیا۔اب اس پر عمرہ کا اعادہ کرنےیا دم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح اگر اسے یہ علم نہیں کہ نماز سے پہلے یہ نجاست لگی ہے یا بعد میں ، تو یہی سمجھا جائےگا کہ نماز کے بعد لگی ہے ، لہذا اس پر کسی نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدرالمختار مع رد المحتار (1/310)
حاصله أنه إذاعلم سبق الطهارة وشك في عروض الحدث بعدها أو بالعكس أخذ باليقين وهو السابق.
الدرالمختار مع رد المحتار (3/487)
يستحب .....ولبس إزار ورداء جديدين أو غسيلين طاهرين.
المبسوط للسرخسي (1/ 59)
من رأى في ثوبه نجاسة لا يدري متى أصابته لا يلزمه إعادة شيء من الصلوات لهذا.
رد المحتار مع الدر المختار(1/ 220)
وفي السراج: لو وجد في ثوبه نجاسة مغلظة أكثر من قدر الدرهم ولم يعلم بالإصابة لم يعد شيئا بالإجماع وهو الأصح. اهـ. قلت: وهذا يشمل الدم، فيقتضي أن الأصح عدم الإعادة مطلقا تأمل.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 78)
ولو اطلع على نجاسة في ثوبه أكثر من قدر الدرهم ولم يتيقن وقت إصابتها لا يعيد شيئا من الصلاة، كذا ذكر الحاكم الشهيد، وهو رواية بشر المريسي عن أبي حنيفة.
محمد امداداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/جمادی الآخرہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


