| 89566 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں نے 2013میں جی پی فنڈ پر منافع اس لیے بند کروا دیا تھا کہ حکومتی پالیسی کے تحت 45 سال کی عمر میں جی پی فنڈ کی کل جمع شدہ رقم کا 80 فیصد حصہ جبرًا نکال لیا جاتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اگر کوئی ملازم 45 سال کی ملازمت پر جی پی فنڈ کی جمع شدہ رقم نکالے اور دوبارہ جمع نہ کروائے، اور اس کے علاوہ متعلقہ اکاؤنٹ آفس کو زیادہ منافع حاصل کرنے کی غرض سے اپنی طرف سے جی پی فنڈ کی رقم بڑھانے کی کوئی درخواست بھی نہ دے، تو ایسی صورت میں اس پر سود کا حکم نہیں ہوتا۔
میں نے اپنی جمع شدہ رقم نکال لی ہے اور زیادہ منافع حاصل کرنے کی نیت سے کوئی درخواست نہیں دی۔ نیز ضرورت کے تحت میں نے کئی مرتبہ جی پی فنڈ کی رقم نکلوائی ہے، جبکہ معمول کے مطابق حکومت اپنی پالیسی کے مطابق جی پی فنڈ کی رقم کاٹتی رہی ہے۔
اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ 2013سے جبرًا کاٹی جانے والی جی پی فنڈ کی رقم پر منافع دوبارہ بحال کروانے کے لیے درخواست دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز جو جی پی فنڈ کی رقم معمول کے مطابق کٹتی رہی ہے، اس پر ریٹائرمنٹ تک منافع لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی پی فنڈ سے کی جانےوالی کٹوتی پر ملنے والا منافع شرعا سود نہیں ہے ، کیونکہ یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے اس کے قبضہ سے پہلے کاٹی جاتی ہے ، لہذا وہ اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی ، کیونکہ اس پر نہ ملازم کا قبضہ ہوتاہے اور نہ ہی اس کے کسی وکیل کا ، لہذا حکومت کی جانب سے اس رقم کے ساتھ کیاجانے والا تصرف یکطرفہ ہوتاہے اور اسے ملازم کی طرف منسوب نہیں کیاجاسکتا۔اس بناپر جب حکومت ملازم کو اس رقم پر منافع دیتی ہے ،تو وہ منافع در حقیقت حکومت کی طرف سے دی جانے والی اجرت ہی کا حصہ شمارہوتاہے۔چنانچہ اگر یہ کٹوتی جبری ہوتو ملازم کے لیے اس پر ملنے والا منافع لینا جائزہے ۔ البتہ اگر کٹوتی ملازم کی رضامندی سے ہو اور ادارہ اس پر نفع دےتو چونکہ اس صورت میں سود ی لین دین کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس منافع سے اجتناب کیاجائے یا لے کر صدقہ کردیا جائے، تاہم اگر کوئی اسے استعمال کرےتو اس پر سود کاگناہ نہیں ہوگا۔
پس صورت مسئولہ میں دوبارہ منافع بحال کروانے کے حوالے سے درخواست کرسکتےہیں، کیونکہ یہ در اصل اپنی مؤجل اجرت میں اضافے کی درخواست ہے جوکہ جائز ہے ۔ نیزچونکہ کٹوتی جبر ی ہےلہذا معمول کے مطابق کٹوتی کی جانے والی جی پی فنڈ کی رقم پر ریٹائر منٹ تک منافع لینا بھی جائز ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط-أخرى (7/ 511)
(بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الاجرة إلا بواحد من هذه الاربعة، والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لانها لو كانت دينا لا يقال إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها.
الفتاوى الهندية (4/ 413)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
10/رجب/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


