03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ازدواجی زندگی میں میاں ،بیوی کے درمیان اختلاف ہونے کی صورت میں شرعی رہنمائی
89576طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

میں نے ایک مطلقہ عورت سے دوسرا نکاح کیا، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ کچھ عرصے سے معلوم ہوا کہ وہ میری پہلی بیوی کو میرے خلاف بھڑکا رہی ہے۔ جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے کہا:"میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا، میں صرف بات کر رہی تھی، دل میں کچھ نہیں تھا"۔

    شروع میں وہ میرے ساتھ بھی بدزبانی کرتی تھی، لیکن میں اسے سمجھا کر خاموش ہو جاتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی ٹھیک ہونے والا نہیں، کیونکہ یہ سب اس کی عادت بن چکا ہے۔ ہر دوسرے دن کوئی نئی بات کر دیتی ہے، جس سے پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے میری طبیعت بھی خراب رہنے لگی ہے اور میرا دل اکتا گیا ہے۔

   اب اس کے ساتھ رہنے میں ڈر لگتا ہے کہ کہیں میری اور میرے گھر والوں کی زندگی خراب نہ ہو جائے، اور چھوڑنے پر یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں میں اس پر ظلم نہ کر بیٹھوں اور اللہ کے غضب کا شکار نہ ہو جاؤں۔ کچھ دن پہلے میں نے اس سے کہا کہ میں اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا، تو اس نے کہا کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گی۔ اس پر میں نے کہا کہ میں آپ کو اور آپ کی والدہ کو ایک موقع دے رہا ہوں، اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگلی بار میں فیصلہ سنا دوں گا۔

   لیکن چند دن گزرنے کے بعد اس نے پھر ایک نئی بات شروع کر دی۔ جب سے یہ معاملات شروع ہوئے ہیں، وہ مجھے تو کہتی ہے کہ اب ایسا نہیں کرے گی، لیکن میری پہلی بیوی کو فون کر کے مجھے بددعائیں دیتی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے اس کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔

    آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ اگر میں اسے طلاق دوں تو کیا مجھ پر کوئی وبال آئے گا یا یہ اللہ کی ناراضگی کا سبب تو نہیں بنے گا؟ جزاک اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    واضح رہے کہ طلاق ایک بہت ہی حساس معاملہ ہے، اس کے بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، لہٰذا طلاق دینے سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔ صورت مسئولہ میں بھی کوشش کی جائے کہ طلاق تک نوبت نہ پہنچے۔ اول تو سنی سنائی باتوں پر ذہن نہ بنائیں، براہ راست جب تک نہ دیکھیں یقین نہ کریں، نیز بیوی کو اصلاح احوال کی ترغیب بھی دیں۔ پھر بھی اگر اصلاح کی امید نہ ہو یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو طلاق دینے کی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

     النساء: (34 –35)

     "...وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35)

   سورۃالبقرة: (227 - 230)

   "وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (227) ...الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ...(229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230).

   سنن أبي داود ت الأرنؤوط (3/ 504)

   عن محارب، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق"

   الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 221)

    باب طلاق السنة:قال: " الطلاق على ثلاثة أوجه ..." والحسن هو طلاق السنة وهو أن يطلق المدخول بها ثلاثا في ثلاثة أطهار " ...ولنا قوله عليه الصلاة والسلام في حديث ابن عمر رضي الله عنهما " إن من السنة أن تستقبل الطهر استقبالا فتطلقها لكل قرء تطليقة " ...

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

09 /رجب /1447ھ   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب