| 89586 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میرا اور میری بیوی کے درمیان موبائل فون خریدنے کے معاملے پر لڑائی ہو رہی تھی۔ میری بیوی ضد کر رہی تھی کہ میں اس کے لیے موبائل فون خریدوں۔ اس دوران لڑائی میں میں نے اپنی بیوی سے کہا:"یا تو تم موبائل لے لو گی، یا گھر خراب کر لو گی"۔
کیا یہ کنایہ الفاظ میں شمار ہوتا ہے؟ کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ نیز اگر کچھ وقت بعد میرا ارادہ بدل جائے اور میں بیوی کو موبائل فون خرید کر دے دوں تو کیا اس صورت میں بھی نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ کیونکہ یہ واقعہ آج کا ہے اور مجھے یاد ہے کہ میں نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہاتھا، بلکہ صرف ڈرانے اور دھمکانے کی نیت سے کہاتھا، تاکہ اس کے ذہن سے موبائل فون خریدنے کا خیال نکل جائے۔ لیکن اب میں وہم اور وسوسے کا شکار ہوں اور دل میں یہ شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ نہ جانے اس وقت نیت کیا تھی۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ طلاق کی نیت نہیں تھی۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔Top of FormBottom of Form
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں "گھر خراب کر لو گی"کے الفاظ میں طلاق کا کوئی معنی نہیں پایا جاتا، یہ محض دھمکی اور غصے کا اظہار ہے، لہٰذا ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔اگر مناسب سمجھتے ہیں تو بعد میں موبائل فون خرید کر دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یاد رہے کہ طلاق کا معاملہ بہت حساس ہوتا ہے، اس لیے محتاط گفتگو کی عادت اپنانی چاہیے، تاکہ طلاق جیسی ناپسندیدہ بات تک نوبت نہ پہنچے۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (4/ 101)
" والأصل أن اليقين لا يزول بالشك..."
الفتاوی الہندیۃ: (413/1)
الفصل الخامس في الكنايات : لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة، ثم الكنايات ثلاثة أقسام...والأحوال ثلاثة : حالة الرضا، وحالة : مذاكرة الطلاق بان تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها وحالة الغضب، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لا يجعل طلاقاً كذا في الكافي، وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ...كذا في الهداية...
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
09/رجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


