| 89588 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بعض جگہ داڑھی کو سفید رکھنے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسے سفید ہی رکھنا چاہیے اور بعض جگہ کہا گیا ہے کہ داڑھی کو رنگنا جائز ہے، اس تناظر میں یہ رہنمائی درکار ہے کہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں داڑھی کو قدرتی سفید حالت میں چھوڑ دینا بہتر ہے یا اسے رنگ (کلر/خضاب) کرنا زیادہ مناسب ہے؟ تقریباً 40 سال کی عمر میں داڑھی میں سفیدی آنا شروع ہو جاتی ہے، نیز کیا داڑھی میں خضاب لگانا جائز ہےاور آج کل مارکیٹ میں جو ڈارک براؤن کلر دستیاب ہے جو دیکھنے میں کالا محسوس ہوتا ہے، کیا وہ شرعاً کالے رنگ کے حکم میں آتا ہے یا نہیں اور داڑھی کو کالا یا کالے کے مشابہ رنگ میں رکھنے کے حوالے سے حلال و حرام کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بالوں کو سفید رکھنے کے مقابلے میں رنگنا بہتر ہے۔تاہم اس میں یہ تفصیل ہوگی کہ جوانی کی عمرچالیس قمری سال میں بالوں کا سفید ہونا عیب شمار ہوتا ہےاور ازالۂ عیب کے لیے کسی بھی رنگ کا استعمال جائز ، بلکہ مستحب ہے۔چالیس سال کے بعد سیاہ رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ سے بالوں یا داڑھی کو رنگنا (تغییر شیب) مستحب ہے۔
صورت مسئولہ میں جوانی کی عمر کے بعد داڑھی یا بالوں کو رنگنا، خضاب لگانا مستحب ہے، بشرطیکہ خضاب میں ایسا کوئی ذیجرم مادہ نہ ہو جو پانی کے بالوں تک پہنچنے میں مانع ہو اور نہ ہی ایسا رنگ ہو ،جو سیاہ ہو یا قریب سے دیکھنے میں بھی سیاہ محسوس ہو۔ البتہ سیاہ خضاب مجاہد کے لیے دشمن کو مرعوب کرنے کی نیت سے استعمال کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري ط- أخرى (15/ 25)
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم" إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم".
صحيح مسلم (3/ 1663)
عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد».
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (6/ 272)
عن ابن عباس، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة".
الفتاوی الہندیۃ: (139/2)
"اتفق المشائخ أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وإنه من سماةالمسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه اتفق عليه المشائخ ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليجيب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشائخ ...كذا في الذخيرة".
کذا فی "امداد الفتاوی": (213/4).
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
09/رجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


