03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو “تو میری طرف سے فارغ ہے “کہنے سے طلاق کا حکم
89606طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے پاس ایک صورتحال ہے، آپ کو اسے پڑھنا ہے اور پھر ویب پر تلاش کرنی ہے اور مجھے کسی بھی عالمِ دین کا مضبوط فتویٰ (دسمبر 2024 کا، جمعرات) چاہیےشوہر نے اپنی بیوی سے ایک بار کہا”تو میری طرف سے فارغ ہے“اور پھر اسی رات شوہر نے زبردستی جنسی تعلق قائم کیا۔اگلے دن جمعہ تھا۔ شوہر پھر ناراض تھا اور بیوی سے کہا کہ تم وہ تین الفاظ سنو، اور پھر اس نے کہا:”تو میری طرف سے فَارِغ ہے“تین بار مسلسل، اور پھر اس نے کہا:”اب تم اپنی ماں کے گھر جا سکتی ہو، میں کاغذی کارروائی کے لیے آؤں گا، اب تم مجھ سے آزادہو۔”اب بیوی کہہ رہی ہے کہ وہ اس شادی کو اب مزید درست نہیں سمجھتی۔اور 15 دن کے بعد وہ بیوی زبردستی رضامندی دینے پرمجبور کی گئی اور دوبارہ نکاح کر لیا گیا۔اب وہ چاہتی ہے کہ اسے ایک مضبوط فتویٰ ملے جس سے وہ ثابت کر سکے کہ وہ طلاق یافتہ ہے۔

فتویٰ کے ساتھ حوالہ جات بھی درکار ہیں.

تنقیح:عورت   سے زبانی  پوچھنے کے بعد اس  نے بتایا کہ اس نے یہ نکاح گھر والوں کے باربار اصرار  کرنے کی وجہ    سےکیا   ہے یعنی  گھر والے بار بار یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہو ا  ،آپ ناسمجھ ہو ۔اس وجہ سے  اس نے نکاح کو قبول کیا  ،اور اب وہ اس نکاح کو باقی نہیں رکھنا  چاہتی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تومیری طرف سے فارغ ہے یہ لفظ طلاق  کنائی کے الفاظ    میں سے  ہے  ،اور  کنائی  الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی شرط ہوتی ہے   ، لیکن اگراس قسم کے  کنائی الفاظ مذاکرہ  طلاق یا غصہ کی حالت میں  بولے جائیں تو ان سے  طلاق بائن  واقع  ہوجاتی ہے۔سوال سے معلوم   ہوتا ہے   کہ شوہر نے یہ الفاظ غصے کی حالت میں کہے ہیں ، لہٰذا مذکورہ  صورت میں جب   شوہر نے پہلی دفعہ  غصہ  کی حالت میں  کنائی الفاظ"   تو میری طرف سے   فارغ ہے "کہے تو اس سے  ایک طلاق بائن واقع ہو گئی  ۔ اس کے  بعد شوہر  نے جو  زبردستی سے جماع کیا ہے تو اس نے حرام  کا ارتکاب کیا ہے،اس پر اسے توبہ استغفار کرنا چاہیے۔  اور اس کے بعد  دوبارہ غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہنا لغو  ہیں ،کیونکہ اس وقت  طلاق کا محل باقی نہیں  تھا۔لہٰذا  موجودہ  صورتحال  میں  نئے مہر اور گواہوں کے  سامنے دوبارہ  نکاح کرنا  درست ہے ۔      آ ئندہ     شوہر کو  دو طلاقوں کا  حق حاصل   ہوگا ۔چونکہ نکاح شرعی طور پر ہو چکا ہے، اس لیے جلد بازی میں علیحدگی کی  بجائے صبراور  مشورے سے نکاح کوبرقرار  رکھنے  کی کوشش کی جائے۔ اگر اس کے باوجود نکاح کو برقرار رکھنا  ممکن نہ ہو تو شرعی طریقے کے مطابق خلع کے لیے اہلِ علم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 105):

أما النوع الأول فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره نحو قوله: أنت بائن، أنت علي حرام خلية برئية بتة أمرك بيدك اختاري اعتدي استبرئي رحمك أنت واحدة خليت سبيلك سرحتك حبلك على غاربك فارقتك خالعتك..................۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 107):

خلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "؛ لأن هذه الألفاظ كما تصلح للطلاق تصلح للشتم، فإن الرجل يقول لامرأته عند إرادة الشتم: أنت خلية من الخير، بريئة من الإسلام، بائن من الدين، بتة من المروءة، حرام أي مستخبث، أو حرام الاجتماع والعشرة معك.

وحال الغضب والخصومة يصلح للشتم ويصلح للطلاق فبقي اللفظ في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عني به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه، والظاهر لا يكذبه فيصدق في القضاء ولا يصدق في حال ذكر الطلاق؛ لأن الحال لا يصلح إلا للطلاق؛ لأن هذه الألفاظ لا تصلح للتبعيد، والحال لا يصلح للشتم فيدل على إرادة الطلاق لا التبعيد ولا الشتم فترجحت جنبة الطلاق بدلالة الحال.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 374):

لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم.

المبسوط للسرخسي (6/ 133):

وإذا قال لامرأته ولم يدخل بها: أنت طالق، وأنت طالق، وأنت طالق، أو قال: ‌أنت ‌طالق، ‌وطالق، ‌وطالق بانت بالأولى عندنا،

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 176):

(‌وإذا ‌كان ‌الطلاق ‌بائنا ‌دون ‌الثلاث ‌فله ‌أن ‌يتزوجها في العدة وبعد انقضائها) لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب.

وسیم اکرم بن محمد ایوب

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

4/رجب المرجب 1447/ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب