| 89621 | جائز و ناجائزامور کا بیان | پردے کے احکام |
سوال
محترم مفتی صاحب! میں ایک آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروس (مثلاً اِن ڈرائیو) کے ذریعے موٹر سائیکل چلا کر روزی کماتا ہوں۔ بعض اوقات ایسی رائیڈز آتی ہیں جن میں مسافر خاتون ہوتی ہے، جو ایک نامحرم (انجان عورت) کے طور پر میرے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتی ہے۔ شروع میں چند مرتبہ میں نے ایسی رائیڈز مکمل کیں، لیکن دل میں ہمیشہ یہ بات ناگوار محسوس ہوتی رہی کہ ایک نامحرم (انجان عورت) کا اس طرح ایک مرد کے ساتھ قریب بیٹھ کر سفر کرنا درست نہیں۔ مزید یہ کہ بعض اوقات میرے دل میں ایسی کیفیات پیدا ہوئیں جو شرعاً اور اخلاقاً درست نہیں، حالانکہ میں نے اپنی طرف سے دل کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کی، لیکن یہ کیفیت میرے اختیار سے باہر محسوس ہوئی۔ اسی وجہ سے اب میں جان بوجھ کر ایسی رائیڈز قبول نہیں کرتا، اور اگر مسافر عورت نکل آئے تو رائیڈ کینسل کر دیتا ہوں، چاہے وہ خاتون باپردہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس پر بعض اوقات مجھے لوگوں کی باتیں بھی سننی پڑتی ہیں، اور مجھے یہ خیال آنے لگتا ہے کہ شاید مجھ میں ہی کوئی مسئلہ ہے، کیونکہ بہت سے لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ براہِ کرم درج ذیل سوالات کی شرعی رہنمائی فرما دیں:
- کیا میرے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ میں موٹر سائیکل پر کسی نامحرم (انجان عورت) کو بطور رائیڈ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاؤں، جبکہ میں کوئی بدتمیزی نہیں کرتا، لیکن دل کی کیفیت درست نہیں رہتی؟
- کیا عورتوں کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروس کے ذریعے کسی نامحرم (انجان مرد) کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرے، جبکہ بظاہر یہ سروس محفوظ سمجھی جاتی ہے؟
- معذرت کے ساتھ یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ اگر کسی نامحرم (انجان عورت) کے قریب آنے سے مرد کے دل میں اس قسم کی کیفیات پیدا ہوں، تو کیا یہ مرد کے کردار یا ایمان میں خرابی کی علامت ہے، یا یہ انسانی فطرت (نیچرل) ہے؟ اور ایسے شخص کے لیے شرعاً کیا طرزِ عمل اختیار کرنا بہتر ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عورت کا کسی نامحرم مرد کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہونا جہاں دونوں کے جسم کا مس ہونا لا بدی ہے ،حد درجہ بے حیائی اور بڑا گناہ ہے۔ لہٰذا نا محرم عورت کو موٹر سائیکل پر سوار کرنے سے اجتناب لازم ہے ۔نیز اس حرام کام کے کرنے کے دوران جو خیالات پیدا ہوتے ہیں ،وہ غیر اختیاری نہیں، لہٰذا یقینا ان پر بھی گناہ ہوتا ہے۔لوگوں کی غلط روش کی وجہ سے پریشان نہ ہوں ، آپ کا ایسی رائڈز کا انکار بالکل درست فیصلہ ہے ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني (5/ 331):
إذا كان الناظر إلى المرأة الأجنبية هو الرجل، قال: يجتنب بجهده على ما يأتي بيانه بعد هذا إن شاء الله، وهو دليل الحرمة، وهو الصحيح في الفعلين جميعا، ولا تمس شيئا إذا كان أحدهما شابا في حد الشهوة، وإن أمنا على أنفسهما الشهوة فقد حرم المس،
المحيط البرهاني (5/ 335):
ولا يحل له أن يمس وجهها ولا كفها، وإن كان يأمن الشهوة بخلاف النظر؛ وهذا لأن حكم المس أغلظ من حكم النظر، والضرورة في المس قاصرة فلا يلحق المس بالنظر؛ هذا إذا كانت شابة تشتهى.
الموسوعة الفقهية الكويتية(37/ 359):
وأما مصافحة الرجل للمرأة الأجنبية الشابة فقد ذهب الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة في الرواية المختارة، وابن تيمية إلى تحريمها، وقيد الحنفية التحريم بأن تكون الشابة مشتهاة.
المعجم الكبير للطبراني (20/ 211):
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له.
أن تحريم النظر لكونه سببا داعيا إلى الفتنة، واللمس الذي فيه المصافحة أعظم أثرا في النفس، وأكثر إثارة للشهوة من مجرد النظر بالعين،
الموسوعة الفقهية الكويتية(37/ 286):
ذهب جمهور الفقهاء في الجملة إلى عدم جواز مس الرجل شيئا من جسد المرأة الأجنبية الحية، سواء كانت شابة أم عجوزا غير أن الحنفية قالوا: لا بأس بمصافحة العجوز ومس يدها لانعدام خوف الفتنة ).
واستدل الجمهور بحديث عائشة رضي الله عنها قالت: ما مس رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده امرأة قط ، ولأن المس أبلغ من النظر في اللذة وإثارة الشهو.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/رجب المرجب ٰ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


