03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم میں تاخیر کاحکم
88504میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم! کیا فرماتے  ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محترم کی وفات 26 جنوری 2023 کو ہوئی ،وفات سے چند مہینے پہلے ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی ، اور وفات کے بعد ریٹائرمنٹ کی رقم وصول ہوئی،اس سے قرضہ منہا کرکے جو پیسے بچے  ان میں ہم چار بہنیں، تین بھائی اورایک والدہ محترمہ وارث ہیں،چار بہنوں میں سے دو بہنوں کی شادی والد محترم کی حیات میں ہوچکی تھی،اور باقی بھائی ،بہنیں تعلیم حاصل کررہے ہیں،والد محترم کی وفات کے فورا بعد تمام بہنوں،بھائیوں اوروالدہ محترمہ کی اتفاق رائے سےیہ فیصلہ ہوا تھا کہ جب تک بقیہ بھائی تعلیم سے فارغ ہوکر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں  اور بقیہ دوبہنوں کی شادی بھی ہوجائے تب  تک وراثت تقسیم نہ کی جائے،اور جو دوبہنیں شادی شدہ ہیں انہوں نے بھی دلی خوشی،رضامندی سے یہ فیصلہ کیا ہے ،کیونکہ ان کی شادیاں اچھے بھلے گھرانوں میں ہوئی ہے،شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

نوٹ:ورثہ میں تیرہ سال کا ایک نابالغ بچہ بھی موجود ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میراث کی تقسیم کے حوالے سے بہتر یہ ہے کہ انتقال کے بعد جتنی جلد ہوسکے مرنے والے کا مال اس کے ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے،تاکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق مل جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی کا اندیشہ نہ رہے،البتہ اگر کسی معقول عذر کی وجہ سےتمام ورثہ باہمی رضامندی سے عملا تقسیم کو  کچھ وقت کےلیے مؤخر کرنا چاہتے ہوں تو اس کی گنجائش ہے،تاہم موجودہ مسئلہ میں چونکہ ایک نابالغ بچہ بھی موجود ہے،اس لیے کم از کم ہر ایک کے حصے کی تعیین کی جائے،بچے کے بالغ ہونے تک ان کے حصے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری  باہمی رضامندی سے کسی ایک کو دی جائے،وہ بچے کے تعلیمی اور دیگر اخراجات اس کے حصے کو مدنظر رکھ کرکرےگا،اسی طرح دوبہنوں کی شادی کے اخراجات بھی بہنوں کے حصے میں سے کیے جائیں،البتہ اگر دیگر بالغ ورثہ رضامندی کے ساتھ مشترکہ طور پر کرنا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار مع رد المحتار (260/6):

(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض.
في المجتبى: حانوت لهما يعملان فيه طلب أحدهما القسمة إن أمكن لكل أن يعمل فيه بعد القسمة ما كان يعمل فيه قبلها قسم و إلا لا."

"رد المحتار"(6/ 771):

"الخامسة: لو ترك أولادا صغارا ومالا فالولاية للأب فهو كوصي الميت بخلاف الجد.

السادسة: في ولاية النكاح لو كان للصغير أخ وجد فعلى قول أبي يوسف يشتركان وعلى قول الإمام يختص الجد ولو كان مكانه أب اختص اتفاقا.

السابعة: إذا مات أبوه صار يتيما ولا يقوم الجد مقام الأب لإزالة اليتيم عنه.

الثامنة: لو مات وترك أولادا صغارا، ولا مال له وله أم وجد أبو الأب، فالنفقة عليهما أثلاثا الثلث على الأم، والثلثان على الجد ولو كان كالأب كان كلها عليه اهـ ح.

أقول: وفي الخامسة نظر لما تقدم قبيل شهادة الأوصياء أن الولاية في مال الصغير لأبيه، ثم لوصي الأب، ثم للجد، ثم لوصيه، ثم للقاضي، ثم لوصيه فالجد يقوم مقام الأب عند عدم الأب، ووصيه فلم يخالف الجد فيها الأب تأمل".

وفی تفسير الألوسي (3 / 429):

حتى إِذَا بَلَغُواْ النّكَاحَ } أي إذا بلغوا حدّ البلوغ وهو إما بالاحتلام أو بالسن وهو خمس عشرة سنة عند الشافعي وأبي يوسف ومحمد وهي رواية عن أبي حنيفة وعليها الفتوى عند الحنفية لما أن العادة الفاشية أن الغلام والجارية يصلحان للنكاح وثمرته في هذه المدة ولا يتأخران عنها ، والاستدلال بما أخرجه البيهقي في «الخلافيات» من حديث أنس إذا استكمل المولود خمس عشرة سنة كتب ما له وما عليه وأقيمت عليه الحدود ضعيف لأن البيهقي نفسه صرح بأن إسناد الحديث ضعيف ، وشاع عن الإمام الأعظم أن السن للغلام تمام ثماني عشرة سنة وللجارية تمام سبع عشرة سنة ، وله في ذلك قوله تعالى : { حتى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ } [ الأنعام : 152 ] وأشُدّ الصبي ثماني عشرة سنة هكذا قاله ابن عباس وتابعه القتبي ، وهذا أقل ما قيل فيه فيبنى الحكم عليه للتيقن

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

05/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب