| 89618 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
سوال -1کسی کاسمیٹک پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی میں "L-Cysteine" یا "E920" لکھا ہو تو شرعاً اس کی حلت و حرمت کے کیا احکامات ہوں گے ؟
سوال -2خاص طور پر جب کاسمیٹک پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی میں L-Cysteine کا ماخذ انسانی بال، خنزیر یا مرغی یا بطخ کے پر میں سے کوئی ہوتو ہر ایک صورت میں حکم کیا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
L-Cysteine (E920)-1 بذاتِ خود ایک کیمیائی/امینو ایسڈ ہے، اس کی حلت و حرمت کا دار و مدار اس کے ماخذ (Source) اوراس کے داخلی یا خارجی استعمال پر ہے۔
یہ بات واضح ہو کہ یہ ایک مشبوہ جزء ہے جو فوڈ ایڈیٹوز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسے پروڈکٹ میں لچک پیدا کرنے، حجم اور ساخت کو بہتر بنانے اور ڈبل روٹی یا آٹے کی تیاری کے پروسیس کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے چار سورسز ہیں:انسانی بال(Human hair)،حیوانی بال(Animal Derived) ،مرغی کے پر اورپلانٹ بیسڈ مائیکروبیل فرمنٹیشن(Microbial fermentation) کے ذریعے اخذ کردہ مصنوعی کیمیکلزsynthetic chemical) (۔
ان میں پہلے ماخذ کا داخلی اور خارجی (enternal & external) دونوں طرح کا استعمال جائز نہیں، جبکہ باقی تمام ذرائع کا استعمال داخلی اور خارجی دونوں طرح جائز ہے، بشرطیکہ حیوانی ذرائع میں خنزیر کے بال یا اس کا کوئی حصہ شامل نہ ہو ،اور اندرونی استعمال کے لیے شرط یہ ہے کہ مضر صحت نہ ہو ۔
لہذا مذکورہ بالا صورت میں اگر L-Cysteineپلانٹ بیسڈ مائیکروبیل فرمنٹیشن سے حاصل کیا گیا ہو یا مصنوعی کیمیکل(Synthetic/Chemical)سے تیار کیا گیا ہو تو شرعاً حلال ہے، داخلی (کھانے میں) اور خارجی (کاسمیٹکس) دونوں استعمالات میں، بشرطیکہ مضرِ صحت نہ ہو۔
-2خاص طور پر جب کاسمیٹک پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی میں L-Cysteine کا ماخذ انسانی بال یا خنزیر یا مرغی بطخ کے پر میں سے کوئی ہو تو ہر ایک صورت کا حکم مختلف ہوگا ۔
-1 انسانی بال (Human Hair)اور انسانی اجزاء شرعاً محترم ہیں۔فقہاء كرام کے نزدیک انسانی بال، ہڈی اور گوشت وغیرہ نہ کھانے میں جائز ہیں، نہ دوا، کاسمیٹک یا کسی اور داخلی یاخارجی استعمال میں۔
-2 خنزیر کے بال یا اس کا کوئی بھی جز ء قرآن و سنت کی رو سے نجس العین ہے۔اس کا ہر جز (بال، کھال اور ہڈی وغیرہ) حرام ہے،اس سے بنی ہوئی چیزوں کا داخلی و خارجی دونوں طرح کا استعمال ناجائز ہے۔
-3مرغی یا کسی حلال جانور کے پرسے حاصل کی گئی (Animal Derived – Halal Animal) ہو،تو اگر اس میں خنزیر یا حرام جانورکا مواد شامل نہ ہو، اور اندرونی استعمال میں مضرِ صحت بھی نہ ہو تو داخلی اور خارجی دونوں استعمالات جائز ہیں ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(سورۃ الإسراء: 70)
قال تعالى: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آَدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا}
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 354):
«الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي.قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - ولا ينتفع من الخنزير بجلده ولا غيره إلا الشعر للأساكفة وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره الانتفاع أيضا بالشعر وقول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أظهر كذا في المحيط.»
«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (13/ 211 بترقيم الشاملة آليا):
«والأجزاء للآدمي في الحكم ما لعينه، ترى أن شعر الآدمي لاينتفع به إكراما للآدمي، وإن غائط الآدمي يدفن، وما ينفصل من سائر الحيوانات ينتفع به.»
«فقه العبادات على المذهب الحنفي» (ص68 بترقيم الشاملة آليا):
«والذكاة تطهر لحم الحيوان المأكول، أما غير المأكول فيطهر جلده بالذبح دون لحمه، والذكاة تطهر الحيوان المذبوح سواء أكان الذابح مسلماً أم كتابياً، ويبقى كل ما لا تحله من الحيوان طاهراً كالريش والمنقار والشعر والحافر والعظم، ما لم يكن به (أي العظم) وَدَك (أي دسم) فهو نجس؛ فإذا زال عنه الدسم طهر.»
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
07/رجب المرجب /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


