| 84349 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
والد کے آپریشن میں جو پیسے استعمال ہوئے کیا وہ زکوۃ میں شمار کیے جاسکتے ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی بات تو یہ ہےکہ زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اس کی نیت ضروری ہے،اگر آپ نے کسی مستحق کو رقم دی اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہیں کی ،تو بعد وہ زکوۃ میں شمار نہیں ہو سکتا ۔
دوسری بات یہ ہے کہ والدین کو زکوۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی ،البتہ اگر والد کے پاس مال نہ ہو اور وہ تنگ دست ہو اور بیٹا صاحبِ حیثیت ہو تو اس پر والد کا نفقہ لازم ہے، نیز والد سے حسنِ سلوک کی شریعت میں بہت تاکید آئی ہے، والد کے علاج کا بندوبست کرنا ان کے ساتھ حسنِ سلوک ہے، جو بیٹے کے ذمے لازم ہے، لہذا بیٹے کو والد کے علاج کی ہر ممکن ضرورت پوری کرنی چاہیے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(2/ 346):
(ولا) إلى (من بينهما ولاد)
قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال هداية....... وكذا كل صدقة واجبة كالفطرة والنذر والكفارات، وأما التطوع فيجوز بل هو أولى كما في البدائع.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 257):
(وشرط أدائها نية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بكله) أي شرط صحة أداء الزكاة نية مقارنة للأداء أو لعزل مقدار الواجب أو تصدق بجميع النصاب؛ لأنها عبادة فلا تصح بدون النية۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 621):
(و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح(النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب (قوله النفقة) أشار إلى أن جميع ما وجب للمرأة وجب للأب والأم على الولد من طعام وشراب وكسوة وسكنى حتى الخادم بحر، وقدمنا في الفروع الكلام على خادم الأب وزوجته۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
17/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


