03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
” میں نکاح توڑ دوں گا ” سے طلاق کا حکم
89536طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میں نے بیوی کو کہا اگر تم نے میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔بیوی نے کہا میں نے سنا ہے کہ تم نے کہا ہے '' میں نکاح توڑ دوں گا ''۔میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف دیا بیوی کو میری بات پر یقین آگیا۔

 اگر طلاق کی نیت کے بغیر کہے '' اگر تم نے میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھا تو میں نکاح توڑ دوں گا ''۔کیا اس طرح کہنے سے اس کی بیوی مطلقہ بن جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

'' نکاح توڑ دوں گا '' سے مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے کا اظہار ہے۔ مستقبل میں طلاق دینے  کا ارادہ ظاہر کرنے سے طلاق نہیں ہوتی، اس لیے اگر شوہر نے یہ الفاظ کہے تو نہ یہ تعلیقِ طلاق ہے اور نہ ہی ابھی کوئی طلاق واقع ہوئی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوی الھندیۃ:(1/384)

قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.

فتح القدیر:(4/7)

ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال، ولو قالت أنت طالق فقال: نعم طلقت. ولو قال له في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى. ولو قيل له: ألست طلقتها فقال: بلى طلقت أو نعم لا تطلق.

البحر الرائق:(3/271)

وليس منه ‌أطلقك ‌بصيغة ‌المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04/رجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب