03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ ’’چھوڑنا‘‘ کا طلاق کے علاوہ  دوسرے کاموں کے لیے استعمال
89680طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ شہریر نےخود کلامی  میں  بولا کہ  میں فاطمہ کو چھوڑ آیا ہوں ۔شہریر فاطمہ کو اس کی دوست کے گھر چھوڑ کر آنے کے بعد خودکلامی کر رہا تھا ۔کیا لفظ’’ چھوڑنا ‘‘ کا استعمال طلاق کے بجائے کسی دیگر کاموں کے لیے استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے جبکہ طلاق کی نیت بھی نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شہریر کے اس جملے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ چھوڑ آنا کا لفظ عام طور پر طلاق کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً یہ کہنا کہ" میں فلاں کو چھوڑ آیا" اس سے مراد کسی خاص  مقام یا اڈے تک چھوڑ کر آنا ہوتا ہےنیز آپ کے بیان کردہ سیاق میں یہ متعین بھی ہے۔ البتہ اگر مطلق طور پر بیوی کی طرف نسبت کرکے کہا جائے کہ میں نے بیوی کو چھوڑ دیا اور اس کے خلاف معنی لینے پر کوئی قرینہ نہ ہو  تو اس جملے سے طلاق واقع ہوجائے گی، خواہ نیت نہ بھی ہو۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 106):

وإذا احتملت هذه الألفاظ الطلاق وغير الطلاق فقد استتر المراد منها عند السامع، فافتقرت إلى النية لتعيين المراد ولا خلاف في هذه الجملة إلا في ثلاثة ألفاظ وهي قوله: ‌سرحتك، وفارقتك، وأنت واحدة فقال أصحابنا: قوله: ‌سرحتك وفارقتك من الكنايات لا يقع الطلاق بهما إلا بقرينة النية كسائر الكنايات………ولفظ السراح والفراق يستعمل في غير قيد النكاح يقال: سرحت إبلي وفارقت صديقي فكان كناية لا صريحا فيفتقر إلى النية ولا حجة له في الآيتين لأنا نقول بموجبهما: إن السراح والفراق طلاق، لكن بطريق الكناية لا صريحا لانعدام معنى الصريح على ما بينا.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 300):

يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال .

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 404):

سرحتك فارقتك يحتمل التسريح والمفارقة بالطلاق أو بغيره.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 299):

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14/ رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب