03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کاانتقال ہوگیا،ورثہ میں شوہر،بیوی کاوالداوربیوی کی بہنیں ہوں تومیراث کیسےتقسیم ہوگی ؟
87849میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال: السلام علیکم!جب میری  اپنی  بیوی  سے نکاح ہوا تو ڈھائی مرلہ جگہ (مکان )اورپانچ تولہ سونا طےہواتھا، مکان شادی کے بعد دے دیا،لیکن نام نہیں کرایا، ہم دونوں اسی مکان میں رہتے تھے اور سونا باہمی رضامندی سے ڈیڑھ تو لہ دیا ۔ شادی 13 سال رہی اور اہلیہ محترمہ اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔ اب سوال یہ ہےکہ گھر میں بیوی  کے جہیز میں اور سونے میں (جو کہ سسرال کے پاس ہے )میرا اور اُن کے میکہ کا کتنا حصہ ہے (ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ہے)۔ اہلیہ محترمہ کی وفات اپنے ہی گھر ( ہمارےگھر )میں ہوئی، وفات کے وقت انہوں نے 2 تولہ زیور پہن رکھا تھا، جو کہ نہلانے سے پہلے میری سالی صاحبہ اُتار کر اپنے گھر لے گئی،اُس کے مطلق بھی بتا دیں کہ کیسے تقسیم کیا جائے ؟

بیوی صاحبہ کی کل چار بہنیں  ہیں (بھائی نہیں ہے) والد حیات ہیں۔ والدہ صاحبہ اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں۔

اہلیہ محترمہ ماشاء اللہ مالدار خانون تھیں۔ اسکے علاوہ اُنکے اثاثوں کی  تفصیل درج  ذیل ہے ،ان اثاثوں میں شوہر اور میکہ  والوں کا کتنا کتنا حصہ ہوگا؟

  1. بینک  اکاؤنٹ میں تقریباً 40 لاکھ روپے ہیں ۔
  2. بینک لائرز میں سونا تقریباً 20 تولہ۔
  3. کاروبارمیں لگائی ہوئی رقم  13 لاکھ روپے۔
  4. ایک عددپلاٹ( مالیت 50 سے 60 لاکھ)

درج  بالا اثاثوں کی تقسیم بھی بتا دیں ۔

(نوٹ) ہم میاں بیوی کی 13 سال شادی رہی ۔ ہماری کوئی اولادنہیں ہوئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں بیوی کےانتقال کےوقت موجود ورثہ میں بیوی کی میراث تقسیم ہوگی،ورثہ میں  سےشوہرکوبیوی کی کل میراث میں سےآدھاحصہ ملےگا،باقی میراث بیوی کےوالد کی ہوگی ۔

مرحومہ کی بہنوں کا میراث میں شرعاکوئی حصہ نہیں ہوگا۔

بیوی کی وراثت میں سوال میں ذکرکردہ تمام چیزوں(نکاح کےوقت دیاگیا مکان(جس میں رہائش پذیرتھے)اورنکاح کےوقت دیاگیاسونااوروفات کےوقت مرحومہ کاپہنا ہوا سونا،بینک اکاونٹ میں موجود رقم 40لاکھ،بینک لاکرزمیں موجود 20تولہ سونا،کاروبارمیں لگائی ہوئی رقم 13 لاکھ روپےاور50سے60لاکھ کی مالیت کا پلاٹ) کو شامل کیاجائےگا۔

جس مکان میں رہائش پذیرہیں،اسی طرح   مرحومہ کاجتنا سونا موجودہے،اورپلاٹ ان سب کی  مارکیٹ ویلیو لگوائی جائےگی،مارکیٹ ویلیو کےمطابق پوری میراث کومذکورہ بالاشرعی طریقےکےمطابق  تقسیم کیاجائےگی۔

پوری میراث کا 50فیصد حصہ شوہر کوملےگااور 50 فیصد مرحومہ کےوالد کو ملےگا۔

حوالہ جات

"قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء" آیت 11:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيماً حَكِيماً}

"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۔

"رد المحتار على الدر المختار"6771/:

(وللأب والجد ) ثلاث أحوال  الفرض المطلق وهو ( السدس ) وذلك ( مع ولد أو ولد ابن ) والتعصيب المطلق عند عدمهما والفرض والتعصيب مع البنت أو بنت الابن ۔۔۔۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

28/ذی الحجہ   1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب