03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا صحابیاتؓ کی مثالیں آج کل کی خواتین کے لیے دلیل بن سکتی ہے؟
89724جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا کام کرنے والی یا تعلیم دینے والی صحابیات کی مثالیں آج کی خواتین کی عوامی مصروفیات اور  ہم آہنگی  کے جواز کے لیے پیش نہیں کی جا سکتی؟ یہ بھی بتادیں کہ جو عورتیں عہدِ نبوی یا خلفائے راشدین کے زمانے میں کام کرتی تھیں وہ صرف جنگ کے زمانے میں تھیں یا عام وقت یا حالات میں بھی کام کرتی تھیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عہدِ نبوی اور خلفائے راشدین کے زمانے میں بعض صحابیاتؓ نے تدریس، طب،فتویٰ اور دیگر ذمہ داریاں انجام دیں، مگر یہ سب کام شرعی حدود اور ایک محفوظ ماحول میں ہوتے تھے۔ ان سرگرمیوں کو آج کے آزاد ،مخلوط اور غير محفوظ ماحول میں خواتین کی عام مصروفیت کے جواز کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ آج اکثر ان امور ميں شرعی حدود کی خلاف ورزی کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔

یہ درست ہے کہ صحابیاتؓ کی یہ سرگرمیاں صرف جنگ تک محدود نہیں تھیں، بلکہ عام حالات میں بھی انہوں نے مختلف ذمہ داریاں سرانجام دیں ،لیکن وہ سب شرعی حدود کے دائرے میں تھا۔ آج اگر واقعی کوئی شرعی ضرورت ہو تو بقدر ضرورت چند شرائط کےساتھ کام کرنے  کی گنجائش ہے: (1) کام شرعاً جائز ہو، (2) مکمل شرعی پردہ ہو، (3) زیب و زینت کرکے نہ جائے، (4) مردوں سے اختلاط بلکہ بے تکلفی بھی  نہ ہو، (5) گھریلو ذمہ داریوں میں خلل نہ آئے۔ ان شرائط کے بغیر ایسی ملازمت ناجائز ہوگی ،مگر اسے عام اور غیر مشروط اجازت قرار دینا صحیح نہیں۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 213):

«‌وقالوا ‌هنا ‌له ‌أن ‌يمنع ‌امرأته ‌من ‌الغزل ‌ولا تتطوع للصلاة والصوم بغير إذن الزوج، كذا في الظهيرية وينبغي عدم تخصيص الغزل، بل له أن يمنعها من الأعمال كلها المقتضية للكسب؛ لأنها مستغنية عنه لوجوب كفايتها عليه، وكذا من العمل تبرعا لأجنبي بالأولى وفي فتح القدير حيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية لنظر الرجال والاستمالة قال الله تعالى {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى} [الأحزاب: 33]

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 399):

وحيث أبحنا لها الخروج ‌فإنما ‌يباح ‌بشرط ‌عدم ‌الزينة ‌وتغيير ‌الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال والاستمالة.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب