| 89732 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں اپنی بیٹی کے اسکول کے بعض تعلیمی اصول و ضوابط کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔اسکول کا اصول ہے کہ ہر نئے باب (Chapter) کے آغاز کے لیے مکمل صفحہ عنوان (Title) کے لیے چھوڑا جائے، جس پر باب کا نام اور اس سے متعلق تصاویر بنائی جائیں، مثلاً "Living Things" کے باب میں جاندار چیزیں بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد اگلا صفحہ ہر باب کے اشاریہ (Index) کے لیے چھوڑا جاتا ہے، لیکن اکثر اوقات اس پر کچھ چسپاں نہیں کیا جاتا اور یوں پورا صفحہ سال بھر خالی رہتا ہے۔اسی طرح، اسکول میں ہر مضمون (English، Urdu وغیرہ) کے لیے چار لائنز والی کاپی استعمال ہوتی ہے، اس میں بھی لکھتے وقت ہر سوال و جواب کے بعد اگلی لائن چھوڑی جاتی ہے تاکہ کام صاف نظر آئے، چاہے بچے کی تحریر صاف ہو یا نہ ہو، جو میری بیٹی کی لکھائی صاف ہونے کی وجہ سے مجھے غیر ضروری لگتا ہے۔ ایسے ہی جب الفاظ/معانی چند ابتدائی سطروں میں ختم ہو جائیں تو باقی سطریں خالی چھوڑ کر سوال و جواب اگلے صفحے سے شروع کیے جاتے ہیں۔ آگے اگر سوالات نئے صفحے پر چند سطروں میں مکمل ہو جائیں تو MCQs اگلے صفحے سے لکھنے کا کہا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے آدھا یا کبھی پورا صفحہ خالی رہ جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر کسی صفحے پر صرف ایک یا دو الفاظ لکھنے کے بعد باب ختم ہو جائے تو اس صفحے پر استاد دستخط اور ریمارکس دے کر اسے بھر دیتے ہیں، جبکہ میں نے اپنی بیٹی کو یہ سکھایا ہے کہ ایسے الفاظ کو پچھلے صفحے کے حاشیے میں لکھ لے تاکہ صفحات بچیں اور سال کے آخر میں نئی کاپی نہ خریدنی پڑے۔میں نے اپنی تعلیم جامعہ اشرفیہ للبنات سکھر سے حاصل کی ہے اور وہاں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ اس طرح غیر ضروری صفحات یا سطریں خالی چھوڑنا اسراف کے زمرے میں آتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا اسکول کے یہ اصول، جن میں ہر نئے مرحلے کے لیے صفحات، سطریں یا کاپی کے حصے چھوڑ کر بار بار نئے صفحے سے آغاز کیا جاتا ہے، شرعاً اسراف میں داخل ہے؟
2. کیا طالبات کو ایسی تربیت دینا کہ وہ صفحات یا سطریں چھوڑ کر کام کریں، جائز ہے؟
3. اگر والدین اس پر تنقید کریں تو کیا یہ غلط ہے یا وہ شریعت کی روشنی میں اپنی اولاد کی تربیت کے لیے درست مؤقف رکھتے ہیں؟
واضح رہے کہ اسکول کی پرنسپل ایک مفتی صاحب کی اہلیہ ہیں، اور یہ تمام اصول اُن ہی کے وضع کردہ ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اگر میں شرعی طور پر غلط ہوں تو اصلاح فرما دی جائے، لیکن اگر میں درست ہوں تو برائے کرم اس بارے میں واضح رہنمائی عطا فرمائیں تاکہ میں اپنے مؤقف پر شرعی دلیل کی روشنی میں ثابت قدم رہ سکوں۔ اگر میں درست ہوں تو میں پرنسپل صاحبہ کو آپ کا جواب دکھاؤں گی تاکہ اسکول میں ہونے والے اسراف کو روکا جا سکے۔۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کوئی ایسا کام جس سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ مقصود ہو،اسراف کے تحت داخل نہیں ہوتا،سوال میں ذکر کئے گئے امور بالعموم سلیقہ سے کام کرنے کے لیے اہم ہوتے ہیں ۔کاپی کا ہر خالی حصہ اگر لکھائی میں استعمال کرنے کی کوشش کی جائے تو تحریر میں صفائی اور مزاج میں سلیقہ پیدا نہیں ہوتا۔
تاہم اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے قوانین پر والدین کو بریفنگ دےکر اعتماد میں لے تاکہ خوش دلی سے ان اصول پر چلیں اور معیار تعلیم بہتر کرنے کا مقصد بہتر انداز میں حاصل ہوسکے ۔
نیز ایسے قوانین بناتے وقت اس کا بھی خیال رہے کہ ان کی وجہ سے والدین غیر ضروری اخراجات پر مجبور نہ ہوں۔ باقی ضرورت کی حد تک اخراجات ڈالنے میں حرج نہیں ۔
حوالہ جات
معجم الفروق اللغوية (ص: 114):
الفرق بين التبذير والاسراف: قيل: التبذير: إنفاق المال فيمالا ينبغي. والاسراف: صرفه زيادة على ما ينبغي.
وبعبارة اخرى: الاسراف: تجاوز الحد في صرف المال، والتبذير: اتلافه في غير موضعه، هوأعظم من الاسراف، ولذا قال تعالى: " إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين " .....
أقول: ويستفاد من بعض الاخبار أن الاسراف على ضربين: حرام، ومكروه. فالاول: مثل إتلاف مال ونحوه فيما فوق المتعارف. والثاني: إتلاف شئ ذي نفع بلا غرض".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 759):
والتبذير يستعمل في المشهور بمعنى الإسراف، والتحقيق أن بينهما فرقا وهو أن الإسراف صرف الشيء فيما ينبغي زائدا على ما ينبغي، والتبذير صرفه فيما لا ينبغي صرح به الكرماني في شرح البخاري يعقوب.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
14/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


