| 88393 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر دوران معاہدہ میں مکمل ادائیگی نہ کر سکوں ، تو کیا یہ معاہدہ شرعی طور پر منسوخ ہو جائے گا؟کیا ایسی صورت میں مجھے کرایہ یا جرمانہ دینا لازم ہوگا؟اگر بہن بھائی مطالبہ کریں تو کیا مکان خالی کرنا لازم ہوگا یا شرعی طورپر نرمی کی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ ان کے حصے خرید لیتے ہیں،اور مقررہ وقت پر ادائیگی نہیں کرپاتے تو اس سے معاہدہ منسوخ نہیں ہوگا،اور نہ ہی اضافی طور پر کوئی کرایہ یا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے،تاہم آپ بروقت ادائیگی کے پابند ہیں،اگر بروقت ادائیگی نہ کرنے میں آپ بےقصور ہیں،یعنی پوری کوشش کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کر پائے ہیں تو اس میں آپ گنہگار نہیں ہوں گے،نیزبھائیوں کو اس صورت میں آپ کے ساتھ تعاون کرکے مزید مہلت دینی چاہیے۔
اگر آپ ان سے حصے نہیں خریدتے ،بلکہ فقط وعدہ کرلیتے ہیں کہ اتنے سال کے بعد ادائیگی کرکے بھائیوں سے ان کے حصے خریدیں گے،تو ایسی صورت میں بھائیوں اور بہنوں کو اختیار ہوگا کہ بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اس وعدہ کو ختم کر کے آپ کو اپنے حصے فروخت نہ کریں،اور اس عرصے کے دوران آپ کے اس مکان کو استعمال کرنے سے قانونا کرایہ تو لازم نہیں ہوگا،اس لیے کہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہے،البتہ دیانتا اس زمانے کا کرایہ بھائیوں اور بہنوں کو ادا کرنا بہترہے۔
حوالہ جات
..
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


