| 89912 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
ایک شرعی مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ ایک شخص نے ماضی میں ایک عورت کے ساتھ ہمبستری کی تھی جس پر وہ سخت نادم اور توبہ گزار ہے۔ اب اسی عورت کی بیٹی کا رشتہ اس شخص کے بیٹے کے لیے آیا ہے۔کیا شرعی طور پر اس شخص کے بیٹے کا نکاح اس عورت کی بیٹی سے جائز ہے، جبکہ اس شخص کے اس عورت کے ساتھ جسمانی تعلقات رہے ہوں؟ کیا یہاں حرمت مصاہرت کا اطلاق ہوگا؟
ایک اور شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ایک شخص کے جسمانی تعلقات ہمبستری رہے ہیں، اب اس عورت کا بیٹا اس شخص کی اپنی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔کیا شرعی طور پر اس عورت کے بیٹے کا نکاح اس شخص کی بیٹی سے جائز ہے؟ کیا اس صورت میں بھی حرمت مصاہرت کا مسئلہ پیدا ہوگا؟ براہ کرم اس بارے میں بھی شرعی حکم واضح فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیان کردہ دونوں صورتوں میں عورت کی بیٹی کا اس شخص کے بیٹے کے ساتھ نکاح کرنا یا عورت کے بیٹے کا اس شخص کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ان کی آپس میں حرام کاری کا اثر ان کی اولاد کے نکاح پر نہیں پڑے گا۔تاہم یہ دیکھ لیا جائے کہ قریبی تعلق پیدا ہونے کی صورت میں دوبارہ حرام کاری میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اگر اطمنان ہو کہ ایسا نہیں ہوگا تو بچوں کا نکاح درست ہے،کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
رد المختار:(3/33)
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:"ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها."
البحر الرائق:(3/108)
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله:"ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها."
مجمع الأنهر:(1/481)
قال العلامة داماد أفندي رحمه الله:"لو زنی بامرأۃ ،حرمت علیہ أصولھا و فروعھا،و حرمت المزنیۃ علی أصولہ و فروعہ،ولا تحرم أصولھا و فروعھا علی ابن الواطئ وأبیہ کما في المخیط للسرخسي."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
6/ شعبان المعظم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


