03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پلاٹ اور تعمیر کی ملکیت کی بنیاد پر کرایہ کی شرعی و عرفی تقسیم
89016اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے دو بھائی ہیں اور دونوں کا واہ کینٹ میں مشترکہ گھر ہے،جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پلاٹ کی زمین کی قیمت آدھی بڑے بھائی نے ادا کی جبکہ آدھی قیمت چھوٹے بھائی نے ادا کی۔ عمارت کی تعمیر میں تمام خرچہ میرے والدین یعنی امی ابو نے کیا ہے۔ یہ گھر واہ کینٹ کی ایک مہنگی کالونی میں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ میرے بھائی جو واہ کینٹ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں، انہیں کمپنی کی طرف سے مکان کا ماہانہ کرایہ ملتا ہے، جس کی قیمت تقریباً 60 ہزار ماہانہ ہے۔ چھوٹا بھائی جو اپنی فیملی کے ساتھ ملتان میں رہتا ہے، اس کا کوئی سامان بھی واہ کینٹ والے گھر میں نہیں ہے، وہ مطالبہ کرتا ہے کہ چونکہ مکان کے پلاٹ میں اس کا مال بھی خرچ ہوا ہے، لہٰذا وہ کرائے کے آدھے حصے کا حقدار ہے۔

واہ کینٹ والا بھائی کہتا ہے کہ چونکہ کرایہ اس کی کمپنی دیتی ہے، لہٰذا چھوٹے بھائی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، جبکہ چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین کی قیمت میں آدھے پیسے اس کے خرچ ہوئے تھے، لہٰذا آدھا کرایہ اس کو ملنا چاہیے۔

بڑے بھائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ والدین اس کے پاس قیام پذیر ہیں اور وہ ان پر خرچ کرتا ہے، لہٰذا کرائے کا مکمل طور پر حقدار وہی ہے۔

دونوں بھائیوں کے مابین مذکورہ مسئلہ کی وجہ سے کشیدگی ہے، حتیٰ کہ بسااوقات ایک دوسرے سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔

شرعی لحاظ سے مکان کے کرایہ کا کون حقدار ہے، چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی کا کتنا حصہ بنتا ہے، جبکہ مکان میرے والد صاحب کے نام پر ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کل ماہانہ کرایہ 60,000 روپے میں سے عموماً عرف میں آدھا حصہ تعمیراور

آدھا پلاٹ کے لیے تصور کیا جاتا ہے، یعنی 30,000 تعمیر اور 30,000 پلاٹ کے لیے۔ چونکہ باہر والا بھائی صرف پلاٹ کا آدھا حصہ رکھتا ہے، اس لیے اس کا حق پلاٹ کے 30,000 کا نصف یعنی 15,000 روپے بنتا ہے۔ یہ 15,000 روپے والدین اور رہائشی بھائی پر برابر تقسیم کیے جاتے ہیں،کیونکہ وہ سب اس میں رہائش پذیرہیں، جس کے مطابق ہر ایک سے 5,000 روپے لیے جائیں گے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں باہر والا بھائی اپنے مکان میں رہائش رکھنے والے بھائی سے 5,000 روپے لینے کا حق دار ہے، باقی5+5 ﴿یعنی 10,000﴾ روپےجووالدین کےاوپرآتےہیں وہ اگر مذکور بھائی والدین سے لینا چاہے تو لے سکتا ہے، مگر اس کا مطالبہ رہائشی بھائی سے درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الشامیة:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط: سعید)

و فیہ ایضاً:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."(كتاب الغصب،مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج:6، ص:200، ط: سعید)

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 588):

شرح المادة 597: مسائل تتفرع عن ذلك: أولًا: مثلًا لو تصرف أحد الشركاء تغلبًا في المال المشترك كالدار والحانوت مدةً بدون إذن شريكه مستقلًا واستعمله بنفسه، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه، كما أنه ليس له أن يطالب بسكنى الدار وحده بقدر ما سكنها شريكه، انظر المادة ( 1083 )، حتى أن الساكن إذا دفع إلى شريكه أجرة حصته يزعم أنها تلزمه فله استردادها بعد ذلك، انظر المادة ( 97 ) .

ويفهم من هذه المادة أن لأحد الشريكين أن يسكن المال المشترك سواء أكان شريكه حاضرا  أو غائبًا؛ إذ يتعذر عليه الاستئذان في كل مرة فكان له أن يسكن في حال غيبته . ثانيا : إذا تسبب أحد الشريكين بتعطيل المال المشترك ، فليس للشريك الثاني أجرة . ثالثا : إذا آجر أحد الشریکین حصته من شریکه سنة و سکنها المستأجر سنتین فلا تلزم أجرة للسنة الثانیة.

وحكم الأجنبي الذي يخلف الشريك فهو كالشريك أيضًا.

ويستفاد من المثال أن ذلك خاص باستعمال الشريك بالذات، ولا دخل لإيجاره من آخر؛ لأن الشريك إذا لم يستعمل المال المشترك مستقلًا بنفسه، وآجره كله من آخر وأخذ أجرته لزمه رد أجرة شريكه إليه . مثلًا لو آجر أحد الشركاء الحمام المشترك بين ثلاثة، ولكل منهم ثلثه، من آخر وأخذ أجرته لزمه أن يعطي لشريكيه ثلثي الأجرة ،وسنفصل هذه المسألة، وتوضح في المادة ( 1077 )، لكن إيجار أحد الشركاء المال المشترك على هذا الوجه أو إعارته غير جائزة ديانة؛ إذ التصرف في ملك الغير بلا إذن حرام  ولا يمنع قضاء؛ إذ الإنسان لا يمنع من التصرف فيما بيده إذا لم ينازعه فيه أحد ( التنقيح، رد المحتار،  علي أفندي)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22/5/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب