| 89800 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
مرزاغلام احمد قادیانی کے بارے میں امتِ مسلمہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نبی نہیں ہے اور اس کا دعوائے نبوت باطل و مردود ہے، عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک و غیر و پر مسلمانوں اور قادیانی جماعت کے افراد کے درمیان بحث، مناظر اور مذ ہی گفتگو کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں، ان حالات میں درج ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
1۔ اگر قادیانی افراد اپنی لا ئیو مجالس یا گفتگو میں مر زا غلام احمد کو "علیہ السلام " کہہ کر یاد کریں یا اس پر درود و سلام پڑھیں تو کیا مسلمان کے لیے وہاں موجودر ہ کر یہ الفاظ سنناشر عاً جائز ہے ؟ یا کیا مسلمان کے لیے مناسب ولازم ہے کہ وہ ایسی گفتگو سننے سے کنارہ کشی اختیارکرے یالائیو سے باہر نکل جائے ؟
2۔ اگر قادیانی افراد مسلمانوں کی لائیو گفتگو میں شامل ہو کر مرزا غلام احمد کے لیے درود یا تعظیمی کلمات ادا کریں تو کیا مسلمانوں کے پلیٹ فارم پر ان کو ایسا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ؟ یا انہیں اس سے روکا جائے ؟
3۔ا گر دورانِ مناظرہ قادیانی اپنی گفتگو میں مرزا غلام احمد پر درود و سلام پڑھیں تو کیا شرعاً مناظر ہ جاری رکھنا درست ہے یا وہاں سے علیحدگی اختیار کرنا بہتر ہے؟
4۔ا گر قادیانی افراد اپنی یا مسلمانوں کی لائیو نشست میں اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے مرزا غلام احمد پر درود و سلام پڑھیں تو کیا مسلمانوں کو جوا باً احادیث نبویہ پیش کرنی چاہئیں؟ خصوصاً وہ احادیث جن میں کذابون و د جالون کے دعوائے نبوت کرنےکا ذکر ہے، کیا شرعا اس طریقے سے جواب دینا درست اور مناسب ہے ؟
5۔ اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں گستاخانہ جملے استعمال کرے، مثلاً اسلام کو گالی دینا، تحقیر آمیز القاب کہنا یا دین اسلام کی بے حرمتی کرنا وغیرہ۔ اس شخص نے خنزیری اسلام کا لفظ استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ میں خنزیری اسلام کو نہیں مانتا۔ (حالانکہ اسلام تو ایک ہی ہے) تو ایسے شخص کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ کیونکہ اس شخص کی اس بات سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے ہیں تو ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیایہ گستاخ ہے؟اس کی یہ بات گستاخی کے زمرے میں آتی ہے ؟
گزارش ہے کہ ان تمام سوالات کا شرعی حکم ، فقہی بنیاد اور دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں تاکہ اس دور میں سوشل میڈیا پر پیش آنے والے مسائل میں راہنمائی مل سکے۔ والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ قادنیوں کو تمام علماٴے کرام متفقہ طور پر کافر اور زندیق قرار دیا ہے اور ان کا حکم عام کفار سے زیادہ سخت ہے، کیونکہ عام کفار اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کر کے مسلمان قرار دیتے، بلکہ وہ اپنے آپ کو یہودی، عیسائی یا ہندو وغیرہ کہتے ہیں، جس سے کسی مسلمان کا ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں، اس لیے فقہائے کرام نے ایسے تمام کفار کے ساتھ خریدفروخت اور دیگر معاملات کو جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ دل سے ان کے ساتھ محبت نہ کی جائے۔جبکہ قادیانیوں کا حکم زندیق کا ہے، زندیق کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی ظاہری طور پر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، جبکہ دل میں وہ کفریہ عقائد رکھتا ہے، جس کادوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو علم نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ان سادہ لوح مسلمانوں ک گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے علمائے کرام رحمہم اللہ نے عام مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے قادیانی اور اس طرح کے تمام فرقوں سے تعلقات اور دیگر معاملات کرنے سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ جب مسلمان ان کے ساتھ معاملات کرنے کے لگے گیں تو دیگر سادہ لوح مسلمان ناواقفیت کی وجہ سے ان کو بھی مسلمان سمجھیں گے، اس لیے ان کے ساتھ ہر ایسے اختلاط سے بچنا ضروری ہے جس سے سادہ لوح کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ چنانچہ پاکستان کے تمام علمائے کرام متفقہ فتوی ہے کہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی خوشی غمی میں شریک ہونا جائز نہیں، مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفا یت اللہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔"
( کفایت المفتی ،کتاب العقائد،ج:1،ص:325، ط:دارالاشاعت)
اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
-
قادیانیوں کی لائیو گفتگو میں شریک ہونا یا ان کی مجالس میں بیٹھنا جائز نہیں، خصوصاً جبکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیتے وقت اس پر علیہ السلام وغیرہ کےالفاظ استعمال کریں، کیونکہ ان الفاظ کا استعمال صرف مقدس شخصیات کے لیے ہی جائز ہے، ان کے علاوہ دیگر افراد خصوصاً گمراہ اورغیرمسلم فرقوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص پر ان الفاظ کا استعمال بالکل ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ یہ دعائیہ جملہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو، جبکہ مرزا قادیانی اور اس طرح کے دیگر لوگ ہرگز اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور رحمت کے مستحق نہیں ہیں، اسی لیے قرآن کریم میں مشرکین کے لیے دعائے استغفار کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، لہذا کسی قادیانی کا مرزا قادیانی پر درود وسلام پڑھنا اور مسلمان شخص کا وہاں اپنے اختیار سے خاموش بیٹھے رہنا اس پر رضامندی کی دلیل ہو گی، جو کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔نیز ایسی مجالس میں بیٹھنے سے لوگ اس شخص کوبھی قادیانی سمجھ کر اس کے ساتھ قادیانی لوگوں جیسا معاملہ کرنےلگیں گے، جس سے اس شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے شریعت میں اپنے آپ کو تہمت کی جگہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، اس وجہ سےبھی ایسی مجالس میں شریک ہونا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ اور اگر بالفرض لاعلمی میں ان کی کسی مجلس میں شرکت ہو جائے تو علم ہونے پر فوراً علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔
-
جب مسلمانوں کو قادیانیوں کے ساتھ اختلاط اورنشست وبرخاست سے منع کیا گیاہے تو مسلمانوں کے لائیو سیشن میں ان کو شریک کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہو گا۔
-
قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کرنے کے سلسلہ میں پہلی بات تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کو ان کے ساتھ بحث ومباحثہ اور مناظرہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایمانیات کے حساس موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، جبکہ عوام کے اندر گہرائی سے چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے مناظرہ کے دوران ممکن ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں ایمانیات کے کسی پہلوکےبارے میں شک وشبہ پیدا ہو جائے تو یہ اس کے ایمان کے لیے بڑے خطرہ کی بات ہو گی، اسی لیے قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے منع فرمایا گیا جو اللہ تعالیٰ آیات میں غوروخوض کر کے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
البتہ اگر کوئی پختہ عالمِ دین مصلحت اور حالات کے تقاضا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ مناظرہ کرے تو اس کی اجازت ہے، پھر اس مناظرے کے دوران اگر قادیانی لوگ مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ علیہ السلام وغیرہ کے الفاظ استعمال کریں تو مسلمان مناظرہ پر اس کا کوئی گناہ نہ ہو گا، مسلمان عالم مناظر کو اس وجہ سے مناظرہ نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ وہ باطل کا مقابلہ کرنے اور اس کو شکست دینے کے لیے میدان میں آیا ہے اور حالات کے مطابق علماء کی ذمہ داری ہے اپنی زبان اور قلم سے ایسے باطل نظریات کے حامل لوگوں کا رد کریں، تاکہ لوگوں کے ایمان کی حفاظت ہو۔
4)قادیانی افراد کے مرزاقادیانی پر نعوذ باللہ درود وسلام بھیجنے کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دجال اور کذاب والی احادیث نہیں پیش کرنی چاہییں، کیونکہ پھر وہ لوگ ضد میں آکر مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی توہین کو کریں گے، اسی لیے قرآن کریم میں باقاعدہ حکم دیا گیا:
{وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ } [الأنعام: 108]
ترجمہ: مسلمانو! جن جھوٹے معبودوں کو یہ لوگ اللہ کی بجائے پکاڑتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو، جس کےنتیجے میں یہ لوگ جہالت کےعالم میں حد سے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں۔
(آسان ترجمہٴ قرآن: سورةٔ انعام:108)
اس کی بجائے قرآن وسنت میں موجود صریح اور صحیح دلائل کی روشنی میں ان کا رد کرنا چاہیے اور ان دلائل کے بیان میں ان احادیث کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے جن میں تیس دجال اور کذاب آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
- اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں گستاخانہ جملے استعمال کرے، مثلاً العیاذ باللہ اسلام کو گالی دیے، تحقیر آمیز القاب کہےیا دین اسلام کی بے حرمتی کرے یا اس مبارک اور نجات دہندہ مذہب کو نعوذ باللہ خنزیری اسلام سے تعبیر کرے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اگر ایسا شخص اس توہین کرنے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو یہ شخص زندیق کافر ہے، جس کے ساتھ میل جول رکھنا، تعلقات قائم کرنا، کسی خوشی وغمی میں شریک ہونا وغیرہ جائز نہیں، بلکہ ایسے شخص سے مکمل طور پر قطع تعلق کرنا ضروری ہے اور ایسے شخص کےخلاف پولیس تھانے میں ایف آئی آر کٹوانی چاہیے، تاکہ اس طرح کے مجرم شخص کو سزا دلوا کر ایسے قبیح فعل سے روکا جا سکے اور ایسے نازیبا الفاظ سے چونکہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور پاکستانی قانون کے آرٹیکل298 اےمیں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ جو شخص اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے کسی جذبات کو مجروح کرے تو اس کو ایک سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، قانون کی عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
جو کوئی شخص کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادی مقصد سے مذکورہ شخص کی سماعت کی حد تک کوئی لفظ کہے یا کوئی آواز پیدا کرے یا مذکورہ شخص کی نظروں کے سامنے کوئی اشارہ کرے یا مذکورہ شخص کی نظروں کے سامنے کوئی شیئ رکھ دے تواسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت تک کے لیے دی جائے گی جو ایک سال تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔[1]
[1] 298. Uttering words, etc., with deliberate intent to wound religious feelings.
Whoever, with deliberate intention of wounding or outraging the religious feelings of any person or inciting religious, sectarian or ethnic hatred, utters any words by using loudspeaker or sound amplifier or any other device or makes any sound in the hearing of that person or makes any gesture in the sight of that person or persons shall be punished with imprisonment of either description of a term which may extend to three years but shall not be less than one year, or with 0.5 million fine, or with both.
حوالہ جات
القرآن الكريم [الأنعام: 68]:
{وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ}
تفسير ابن أبي حاتم (4/ 1314) مكتبة نزار مصطفى الباز - المملكة السعودية:
7430 - أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم فيما كتب إلي، ثنا أحمد بن مفضل، ثنا أسباط، عن السدي قوله: وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم قال: كان المشركون إذا جالسوا المؤمنين وقعوا في النبي صلى الله عليه وسلم والقرآن، فسبوه واستهزءوا به، فأمرهم الله عز وجل ألا يقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره.
المنتقى من كتاب مكارم الأخلاق ومعاليها (ص: 105) دار الفكر - دمشق سورية:
عن بديل بن ورقاء قال قال عمر بن الخطاب من أقام نفسه مقام التهمة فلا يلومن من أساء به الظن.
الزهد لأبي داود (ص: 98) دار المشكاة للنشر والتوزيع، حلوان:
عن عمر بن الخطاب، قال: من عرض نفسه للتهمة فلا يلومن من أساء به الظن، ومن كتم سره كانت الخيرة في يده.
حاشية رد المحتار على الدر المحتار (4 / 241) دار الفكر-بيروت:
ثم بين حكم الزنديق فقال: اعلم أنه لا يخلو إما أن يكون معروفاً داعياً إلى الضلال أو لا. والثاني ما ذكره صاحب الهداية في التجنيس من أنه على ثلاثة أوجه إما أن يكون زنديقاً من الأصل على الشرك أو يكون مسلماً فيتزندق أو يكون ذمياً فيتزندق، فالأول يترك على شركه إن كان من العجم أي بخلاف مشرك العرب فإنه لا يترك. والثاني يقتل إن لم يسلم؛لأنه مرتد۔ وفي الثالث يترك على حاله ؛ لأن الكفر ملة واحدة اهـ
إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 12) المجلس العلمي – باكستان:
تفسير الزندقة والإلحاد والباطنية وحكمها ثلاثتها واحد وهو الكفر:
قال: التفتازاني في "مقاصد الطالبين في أصول الدين": الكافر إن أظهر الإيمان خص باسم "المنافق"، وإن كفر بعد الإسلام "فبالمرتد"، وإن قال بتعدد الآلهة "فبالمشرك"............. قوله: "المعروف" اهـ. فإن الزنديق يموّه يكفره، ويروج عقيدته الفاسدة، ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال، وكونه معروفاً بالإضلال اهـ. ابن كمال.
وقيل: لا يقبل إسلامه إن ارتد إلى كفر خفي، كزنادقة، وباطنية، فالمراد بابطان بعض عقائد الكفر ليس هو الكتمان من الناس، بلالمراد: أن يعتقد بعض ما يخالف عقائد الإسلام مع ادعائه إياه وحكم المجموع من حيث المجموع الكفر لا غير.
الفصل في الملل والأهواء والنحل لأبي محمد علي بن أحمد ابن حزم الظاهري(3/ 142) مكتبة الخانجي، القاهرة:
وصح الإجماع على أن كل من جحد شيئا صح عندنا بالإجماع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى به فقد كفر وصح بالنص أن كل من استهزأ بالله تعالى أو بملك من الملائكة أو بنبي من الأنبياء عليهم السلام أو بآية من القرآن أو بفريضة من فرائض الدين فهي كلها آيات الله تعالى بعد بلوغ الحجة إليه فهو كافر ومن قال بنبي بعد النبي عليه الصلاة والسلام أو جحد شيئا صح عنده بأن النبي صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر.
إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 2) المجلس العلمي، باكستان:
والمراد "بالضروريات على ما اشتهر في الكتب: ما علم كونه من دين محمد - صلى الله عليه وسلم - بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، كالوحدانية، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبياء، وانقطاعها بعده.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
/27رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


