03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹیوں کا والد سے شاملات کا حصہ حاصل کرکے آباد کرنےکے بعدچچاکااس پر دعوی
89378ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

 ہمارے علاقے تھل مین بلند ایک شہر ہے جس کا محل وقوع شاملات میں شامل ہے ملکیتی رقبہ ہرآدمی کے پاس چند کنال یامرلوں میں ہے باقی شاملات ہیں،ہرآدمی کے کھاتے میں میں چند کنال ملکیتیاورباقی ساراشاملات  ہوتے ہیں،جس اراضی پرقابض ہے تووہ رقبہ اس کے کھاتہ میں سمجھاجاتاہے ۔

غلام صدیق کی نرینہ اولاد نہیں ہیں،صرف بیٹیاں ہیں ،اس نے اپنا شاملات والارقبہ دو بیٹیوں کے درمیان اپنی زندگی میں ہی تقسیم کردیا اورداماد اوربیٹیوں نے زراعت بھی شروع کردی،یہ سلسلہ غلام صدیق کی وفات تک رہا،پھر غلام صدیق کی وفات ہوگئی اس کے بعد ان کے بھائی غلام محمداوراس کے بیٹوں نے جھگڑاکرناشروع کیا کہ غلام صدیق کی اراضی میں ہمارابھی حصہ بنتاہے وہ ہمیں دیاجائے۔

شریعت کی روسے وضاحت فرمائیں کہ غلام صدیق کی مقبوضہ اراضی میں صرف بیٹیوں کا حق ہے یا اس کے بھائی غلام محمدکا بھی حق بنتاہے؟

سائل نے فون پر بتایاکہ غلام صدیق اس زمین کے کوئی چیز ترکہ میں نہیں چھوڑی تھی، اوران کے  ورثہ  دو

بیٹیاں،تین بھائی اورایک بہن ہیں۔باقی بھائی کچھ نہیں کہہ رہے ہیں بس ایک بھائی جھگڑاکررہاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے بطورِ تمہید ’’ اراضی شاملات‘‘ کی  شرعی حیثیت معلوم کرنا ضروری ہے، کسی گاؤں، دیہات کے متصل وه غیر آباد زمین جس سے گاؤں والوں کی مشترکہ ضروریات متعلق ہوں ،جیسے چراگاہ،یا ایندھن کے حصول کے لیے یا قبرستان وغیرہ کے لیے استعمال کی جاتی ہو،ایسی زمین کا حکم یہ ہے کہ یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ سب گاؤں والوں کے درمیان مشترک ہوتی ہےاور سب کو اس سے نفع اٹھانے کا یکساں حق حاصل ہوتا ہے۔

ایسی زمین کے علاوہ گاؤں یا بستی سے دور جتنی غیر آباداورغیر مملوکہ زمینیں ہیں (جو شرعًا "ارض موات" کہلاتی ہیں ) وہ حکومت کی  ملکیت ہوتی ہیں،حکومت کی اجازت کے ساتھ جو شخص سب سے پہلے اس میں سے کسی حصّۂ زمین کو آباد کرے گا تو وہ اتنی زمین کا مالک قرار پا ئے گا،کسی اور کے لیے اُس شخص  کے آباد کردہ حصے میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوگا،اور اُس شخص کے آباد کردہ حصے کے علاوہ بقیہ زمین بدستور حکومت کی ملکیت رہےگی۔(کذا فی:عدالتی فیصلے۲/۲۸۳)

اس تمہید کے بعد اپنے سوال کے جواب ملاحظہ فرمائیں:

غلام صدیق کی شاملات والی زمین اگر گاؤں کی مشترک زمین نہیں تھی تو زراعت اور آبادکاری کے بعد غلام صدیق کی بیٹیاں اس کی مالک بن گئی ہیں، لہٰذا غلام صدیق کے مذکوربھائی اوراس کے بیٹوں کا ان زمینوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اور باقی ترکہ چونکہ غلام صدیق کا ہے نہیں، لہٰذا بھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔پس مذکور بھائی اور اس کے بیٹوں کا جھگڑا کرنا اور مرحوم غلام صدیق کی بیٹیوں کو تنگ کرنا ہرگز جائز نہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط دعوے سے باز آ جائیں اور اپنے کیے پر توبہ اور استغفار کریں۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (3 / 280)

(إذا أحيا وعمر أحد أرضا من الأراضي الموات بالإذن السلطاني يصير مالكا لها،،،،إلى قوله: فلذلك إذا أحيا الأرض على هذا الوجه ثم تركها بعد الإحياء فزرعها آخر فيكون المحيي الأول أحق بها لأنه بإحيائه للأرض أصبح مالكا لها وبتركه الأرض لا تخرج عن ملكه (الطوري في إحياء الموات)

الدر المختار - (6 / 431)

(إذَا أَحْيَا مُسْلِمٌ أَوْ ذِمِّيٌّ أَرْضًا غَيْرَ مُنْتَفَعٍ بِهَا وَلَيْسَتْ بِمَمْلُوكَةٍ لِمُسْلِمٍ وَلَا ذِمِّيٍّ (وَهِيَ بَعِيدَةٌ مِنْ الْقَرْيَةِ إذَا صَاحَ مَنْ بِأَقْصَى الْعَامِرِ) (لَا يُسْمَعُ بِهَا صَوْتُهُ مَلَكَهَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ) وَهُوَ الْمُخْتَارُ كَمَا فِي الْمُخْتَارِ وَغَيْرِهِ وَاعْتَبَرَ مُحَمَّدٌ عَدَمَ ارْتِفَاقِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ بِهِ وَبِهِ وَقَالَتْ الثَّلَاثَةُ. قُلْت: وَهَذَا ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ وَبِهِ يُفْتَى (إنْ أَذِنَ لَهُ الْإِمَامُ فِي ذَلِكَ)،وكذا في الفتاوى الهندية - (5 / 385)

بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية - (6 / 194)

(وأما) بيان ما يثبت به الملك في الموات وما لا يثبت ويثبت به الحق فالملك في الموات يثبت بالإحياء بإذن الإمام عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف ومحمد - رحمهم الله تعالى - يثبت بنفس الإحياء وإذن الإمام ليس بشرط.

صحيح البخاري-نسخة طوق النجاة - (1 / 235)

حدثنا يحيى بن بكير حدثنا الليث عن عبيد الله بن أبي جعفر عن محمد بن عبد الرحمن عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن النبي- ﷺ - قال }من أعمر أرضا ليست لأحد فهو أحق{ قال عروة قضى به عمر - رضي الله عنه - في خلافته،

قال الشيخ المفتي محمد تقی العثماني:

الأرض المتصلة بالقرية والتي تكون ضرورية للاحتياجات المشتركة لأهالي القرية، مثل المراعي أو الحصول على الحطب وما إلى ذلك، لا يجوز أن تكون ملكًا لشخص واحد، ولا يجوز تقسيمها وامتلاكها من قبل أي شخص. بل تكون هذه الأرض أرضًا مشتركة لكل سكان القرية، ولكلهم حق متساوٍ فيها. ويمكن للحكومة تحديد حد هذه الأرض، كما يمكن لسكان القرية الاتفاق فيما بينهم على ذلك.

أما الأراضي غير المأهولة خارج هذا الحيز المحدود، فلجميع سكان القرية فيها حق، ويجوز لجميع سكان القرية، سواء كانوا ملاك أراضٍ أو فلاحين، أن يقوموا بزراعة هذه الأراضي وتقسيمها (نو توڑ). ولتنظيم استعمال هذا الحق، يمكن للحكومة وضع قواعد، كما يمكنها أن تشترط الحصول على إذن من الحكومة للزراعة (على أن يكون الحصول على الإذن سهلاً بحيث لا يصبح صعبًا على العامة، ولا يستفيد منه سوى أصحاب النفوذ).

وبموجب هذه القواعد، كل من يقوم بزراعة هذه الأراضي يصبح مالكًا للأرض التي قام بإحيائها، وبعد الزراعة لا يلتزم بدفع أي إتاوة أو إيجار أو نسبة من المحصول لأصحاب الأرض في القرية، سواء كان من ملاك الأراضي أو الفلاحين.(أحكام قضائية: 2/282-266)

وفی الشامیة:

ولیس لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي(شامي، کتاب الحدود / باب التعزیر، مطلب: في التعزیر بأخذ المال ۶؍۱۰۶ )

وفی صحيح البخاري( 3/ 130)

عن سالم، عن أبيه رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب