| 89843 | نماز کا بیان | سنتوں او رنوافل کا بیان |
سوال
میں چشمے کی دوکان میں کام کرتا ہوں،اور اس کام کو کرتے ہوئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ میرے ایک پرانے جاننے والے ہیں عامر بھائی، وہ چشمے کے کام میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں۔ مطلب پیسہ ان کا ہوگا اور محنت میری ہوگی، منافع ہم کام شروع کرنے سے پہلے آپس میں طے کرلیں گے کہ کون کتنا منافع لے گا۔ ہم نے چاہا کہ کام شروع کرنے سے پہلے استخارہ کریں کہ یہ کام کرنا بہتر بھی ہے یا نہیں۔ اور پھر ہم شرعی اور قانونی رہنمائی بھی حاصل کرتے رہیں گے۔ مگر میرے استخارہ کرنے پر کوئی جواب نہیں آیا۔ مجھے کسی نے مشورہ دیا کے میں دار الافتاء سے رابطہ کروں اور ان سے شرعی رہنمائی لوں۔ اس لیے میں نے آپ سے رابطہ کیا ہے برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں کہ ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ یہ کام کرنا ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے یہ کام صحیح ہے اور منافع متعین کرکے اس طریقے کے مطابق کام کرنا جائز ہے۔ استخارہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سے ہے ۔ لیکن استخارہ کے بعد خواب نظر آنا یا اشارہ مل جانا ضروری نہیں، کام میں رکاوٹیں نہ آنا اورقلبی اطمنان کافی ہے۔ پہلے مذکورہ کام سے متعلق مسنون استخارہ کرلیا جائے، اگر ایک مرتبہ استخارہ کرنے سے قلبی اطمنان نہ ہو، تو سات مرتبہ تک استخارہ کریں۔ اور اس دورانیے میں باہمی مشاورت کے ساتھ ساتھ دیگر چشمہ سازی کے ماہرین سے بھی رہنمائی لیتے رہیں۔اگر اس سے قلبی میلان کام کرنے کی طرف ہو،تو اللہ کا نام لے کر کام شروع کرلیں۔اگر دل کا رجحان کام نہ کرنے کی طرف ہو، تو اسے ترک کر کے کوئی اور کام کریں۔
حوالہ جات
البحر الرائق :(2/55)
قال العلامة ابن نجیم رحمہ اللہ: "ومن المندوبات صلاة الاستخارة وقد أفصحت السنة ببيانها فعن جابرقال «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم إني أستخيرك بعلمك..."
رد المحتار:(2/27)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: "وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني «يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه»."
بدائع الصنائع:(7/12)
قال الامام الکاسانی رحمہ اللہ: "وقد ندب الله - سبحانه - رسوله عليه الصلاة والسلام إلى المشاورة بقوله {وشاورهم في الأمر} [آل عمران: 159] مع انفتاح باب الوحي، فغيره أولى، وعن أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال: «ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر مشاورة لأصحابه منه» ."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


