03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جعلی طلاق بنوانےاوراس پر دستخط کرنے/کرانے کا حکم
89112طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نام علی ظفر ہے اور میری پہلی بیوی کا نام منزہ عثمان ہے۔ میں نے اپنی پہلی بیوی سے چھپ کر، اسے بتائے بغیر دوسری شادی کی تھی سعدیہ ناصر نامی لڑکی کے ساتھ۔ میں دونوں بیویوں کو رکھنا چاہتا ہوں۔ سعدیہ نامی نے مجھے بہت زیادہ ذہنی دباؤ دیا کہ اپنی پہلی بیوی منزہ عثمان کو طلاق دو، جبکہ میں نہیں دینا چاہتا نہ ہی میرا کوئی ارادہ یا نیت ہے۔ سعدیہ نامی، میری دوسری بیوی کے دباؤ پر، میں نے ایک جعلی پرچہ بنوایا طلاق نامہ کا۔ وہ اسٹامپ پیپر بھی رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی وہ پیپر کی کوئی ویلیو ہے۔ اس پرچے پر میری دوسری بیوی سعدیہ نامی نے زبردستی دستخط کروائے۔ میں نے اس کو دکھانے کے لیے دستخط کیے۔ جبکہ اپنی پہلی بیوی منزہ عثمان کو فارغ کرنے کی نہ میری نیت ہے، نہ ہوگی، اور نہ کوئی ارادہ۔ اُس جعلی طلاق نامہ کے چند نکات یہ ہیں:

 میرا ارادہ بالکل بھی نہیں تھا نہ ہی کوئی نیت کہ میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق دوں۔ صرف دوسری بیوی کی ضد اور دباؤ کی وجہ سے۔ ایک جعلی اسٹامپ لیا گیا جو رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گواہان سچے ہیں۔ اس پیپر پر بیوی کا نام  کی سپیلنگ میں ایک  Zکا کے بجائے ڈبل Z لکھاہواہے اور اس کی ولدیت بھی غلط ہے،کیونکہ والد کا نام محمد عثمان  ہے اورطلاق نامہ کے شروع میں عثمان سبحان لکھاہواہے۔ اس پر لکھی ہوئی تمام معلومات غلط ہیں۔ یہ صرف دوسری بیوی کا منہ بند کرنے کے لیے بنایا گیاہے۔ اس معاملے کا پہلی بیوی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ نہ اس کے سائن لیے گئے اور نہ ہی اس سے رسیو کروایا گیا۔ پہلی طلاق اگست میں لکھی گئی اور اس کے بعد لگاتار رجوع ہوتا رہا۔ اور پھر دوسری اور تیسری تو بنتی ہی نہیں۔ اب اس سب کے بارے میں مجھے آپ اپنا فتویٰ لکھ کردیں۔

واضح رہے کہ طلاقنامہ پر دستخط میں نے خود نہیں کئے،بلکہ میرے کہنے پر میرے وکیل نے میری طرف سے کئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جس طرح طلاق کا لفظ بولنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح لکھنے، لکھوانے یا لکھے ہوئے پر خود یا بذریعہ وکیل دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت اگر دو گواہ بنا لیے جائیں کہ ’’میں جعلی طلاق نامہ تیار کروا رہا ہوں‘‘تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فرضی طلاق نامہ تیار کرواتے وقت یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔

اور اگر جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت گواہ نہیں بنائے جائیں (جیسا کہ مذکورہ صورت میں ہوا ہے) تو جعلی طلاق نامہ تحریر کروانے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور جتنی طلاق کا ذکر طلاق نامہ میں ہوتا ہے،اتنی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ (ملخص از فتاویٰ جامعۃ الرشید: 81610)

مسئولہ صورت میں چونکہ تین طلاقوں کا ذکر ہے اور گواہ کسی کو نہیں بنایا گیا تھا، لہٰذا مذکورہ صورت میں تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو گئی ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں بغیر حلالہ کے نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی نیا نکاح۔

"Munaza" میں ایک "z" کا اضافہ کرکے "Munazza" لکھنے سے فرق نہیں پڑتا، بلکہ اس کا صحیح تلفظ بھی ڈبل "z" کے ساتھ ہے۔

جہاں تک والد صاحب کا نام غلط لکھنے کی بات ہے،تو اگرچہ طلاق نامہ کے شروع میں "Munazza Usman Subhan" لکھا گیا ہے، مگر نیچے جہاں تین طلاق لکھی ہوئی ہے، اس میں "Munazza Usman" لکھا ہوا ہے۔ یعنی دادا کا نام شروع میں لکھا گیا تھا، مگر اس سے فرق نہیں پڑتا۔ نیز بعد میں جہاں طلاقِ ثلاثہ کا ذکر ہے، وہاں صرف "Munazza Usman" یعنی والد کا نام لکھا ہوا ہے اور وہ صحیح ہے، لہٰذا اس سے بھی مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

سائل کا یہ کہنا کہ ’’دستخط میں نے نہیں کیے‘‘ اس سے بھی مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ اس نے خود نہیں کیے،مگر اس کے کہنے سے وکیل نے اس کی طرف سے کیے ہیں، اور یہ بات خاوند نے تسلیم بھی کی ہے۔ لہٰذا وکیل کے دستخط، جو اس کے حکم سے ہوئے ہیں،  اس﴿خاوند﴾ کے دستخط شمار ہوں گے اور طلاق واقع ہوگی۔

جہاں تک دباؤ کی بات ہے تو جو تفصیل زبانی فون پر میاں بیوی نے الگ الگ بتائی ہے، اس کی رو سے یہ صرف بیوی کا اصرار تھا’’اکراہ اس میں نہیں تھا‘‘۔ لہٰذا اس دباؤ سے بھی مذکورہ مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ پس مسؤولہ صورت میں بہرحال تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت ثابت ہو چکی ہے، اور اب حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔

واضح رہے کہ دوسری بیوی کا پہلی بیوی کو طلاق دلوانے کا مطالبہ کرنا اور اس پر اصرار کرنا شریعت میں ناجائز اور سخت گناہ ہے، کیونکہ یہ عمل ظلم، حسد اور گھریلو فساد کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ایسی عورت گناہگار ہوتی ہے، اور شوہر پر لازم تھا کہ وہ اس ناجائز دباؤ کو ہرگز قبول نہ کرتا۔

حوالہ جات

رد المحتار(3/246،247)

ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل ابعث به إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا.

الدر المختار 293/3

 "قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية"۔

سنن ابن ماجہ:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌ثلاث ‌جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة ".(كتاب الطلاق، باب من طلق أو نكح أو راجع لاعباً، ج:1، ص658، ط:دار إحياء الكتب العربية-بیروت)

بدائع الصنائع :

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل – (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره)".(کتاب الطلاق، فصل في حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ".(کتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعة، ج:1، ص:473، ط:رشیدیه)

وفی فتاوی محمودیة

إذا جعل الرجل أولاً شخصاً شاهداً على أنه سيوقع على وثيقة الطلاق على غير حق، أو سيقر أمام المحكمة بالطلاق على غير حق، ولم يقع الطلاق فعلياً ولم يقصد الطلاق، فإن هذا الإقرار الكاذب أو التوقيع الكاذب لا يترتب عليه وقوع الطلاق.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/5/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب