| 88346 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں، سب سے بڑے بیٹے (شیر محمد کی شادی 1990 میں گاؤں میں ہوئی ، شادی کے کچھ عرصے بعد کراچی کے گھر شفٹ ہو گئے اور وہ گھر شیر محمد کے والد صاحب نے شیر محمد کو گفٹ دیا تھا ،قبضہ/گفٹ دینے کے بعد سے ابھی تک شیر محمد آباد تھے،شیرمحمد کے والد شیر محمد کے ساتھ نہیں تھے ،شیر محمد کی وفات کے بعد شیر محمد کے بچے آبادہیں، شیر محمد نے گھر کی مزید تعمیر کرنے کے لئےاپنے والد صاحب سے2011 میں سات لاکھ روپے لئے،شیر محمد کے والد نے اپنے باقی بچوں کو بھی اسی دوران پیسے دیے ،جس کی کل رقم معلوم نھیں،باقی بچوں نے بھی گھر بنائے۔
جناب شیر محمد کے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا، پھر 2020 میں شیر محمد کا بھی انتقال ہوا اور یاد رہے شیر محمد کا انتقال پانچ سال مسلسل بیماری کی وجہ سے ہوا، پھر2022 میں شیر محمد مرحوم کے بچوں نے گھر کی مزید تعمیر کروائی ،جس کا تقریباً خرچہ پندرہ (15) لاکھ روپے تھا،جس میں شیر محمد مرحوم کے بچوں نے چاچوں سے تعاون مانگا اور 2 لاکھ روپے کھیتوں کی فصل کا حصہ سب نے مل کر دیا۔
باقی 250000روپے چچاؤں نے تعاون کی نیت سے دیا تھا ،قرض نہیں دیا تھا اور باقی 1150000 روپے شیر محمد مرحوم کے بچوں نے تعمیر کیلئے رقم ادا کی، یاد رہے شیر محمد مرحوم اور ان کے بچوں کا 31 سال سے موجودہ گھر میں رہائش اورقبضہ ہے اور جب شیر محمد مرحوم کے بچے گھر کی تعمیر کر رہے تھے تب شیر محمد مرحوم کے بھائیوں نے نہ حصے کی بات کی نہ بٹوارے کی بات کی۔
یہ بھی واضح رہے کہ شیر محمد مرحوم کے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا اور شیر محمد مرحوم کی رہائش / قبضہ 1994 سے ہیں، قبضہ سے لیکر شیر محمد مرحوم کے والد صاحب کے انتقال تک نہ کوئی بٹوارے کی بات کی اور نہ ہی حصے تذکرہ کیا اور شیر محمدمرحوم پانچ سال مسلسل بیمار تھے شیر محمدمرحوم کے والد صاحب کے انتقال سے شیر محمد کے انتقال تک شیر محمد مرحوم کے بھائیوں نے نہ حصے کی بات کی اور نہ بٹوارے کی بات کی۔
نوٹ :شیر محمد مرحوم نے بچوں سے کہا تھا کہ یہ گھر میری اولاد کا ہے،اس میں کسی کا حصہ نہیں ہے، اس کے گواہ موجود ہیں اور شیر محمد نے بچوں سے بھی کہا تھا کہ گھر آپ کا ہےاس میں کسی کا حصہ نہیں ہے، بچے گواہ ہیں، شیر محمد مرحوم کے اس گھر کا حصہ اور بٹوارہ کرنے کے دعویدار چار بھائی تین بہنیں اور بیوہ (شیر محمد کی امی )ہیں،کیا اس گھر میں ان کا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں، سب سے بڑے بیٹے (شیر محمد کی شادی 1990 میں گاؤں میں ہوئی ، شادی کے کچھ عرصے بعد کراچی کے گھر شفٹ ہو گئے اور وہ گھر شیر محمد کے والد صاحب نے شیر محمد کو گفٹ دیا تھا ،قبضہ/گفٹ دینے کے بعد سے ابھی تک شیر محمد آباد تھے،شیرمحمد کے والد شیر محمد کے ساتھ نہیں تھے ،شیر محمد کی وفات کے بعد شیر محمد کے بچے آبادہیں، شیر محمد نے گھر کی مزید تعمیر کرنے کے لئےاپنے والد صاحب سے2011 میں سات لاکھ روپے لئے،شیر محمد کے والد نے اپنے باقی بچوں کو بھی اسی دوران پیسے دیے ،جس کی کل رقم معلوم نھیں،باقی بچوں نے بھی گھر بنائے۔
جناب شیر محمد کے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا، پھر 2020 میں شیر محمد کا بھی انتقال ہوا اور یاد رہے شیر محمد کا انتقال پانچ سال مسلسل بیماری کی وجہ سے ہوا، پھر2022 میں شیر محمد مرحوم کے بچوں نے گھر کی مزید تعمیر کروائی ،جس کا تقریباً خرچہ پندرہ (15) لاکھ روپے تھا،جس میں شیر محمد مرحوم کے بچوں نے چاچوں سے تعاون مانگا اور 2 لاکھ روپے کھیتوں کی فصل کا حصہ سب نے مل کر دیا۔
باقی 250000روپے چچاؤں نے تعاون کی نیت سے دیا تھا ،قرض نہیں دیا تھا اور باقی 1150000 روپے شیر محمد مرحوم کے بچوں نے تعمیر کیلئے رقم ادا کی، یاد رہے شیر محمد مرحوم اور ان کے بچوں کا 31 سال سے موجودہ گھر میں رہائش اورقبضہ ہے اور جب شیر محمد مرحوم کے بچے گھر کی تعمیر کر رہے تھے تب شیر محمد مرحوم کے بھائیوں نے نہ حصے کی بات کی نہ بٹوارے کی بات کی۔
یہ بھی واضح رہے کہ شیر محمد مرحوم کے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا اور شیر محمد مرحوم کی رہائش / قبضہ 1994 سے ہیں، قبضہ سے لیکر شیر محمد مرحوم کے والد صاحب کے انتقال تک نہ کوئی بٹوارے کی بات کی اور نہ ہی حصے تذکرہ کیا اور شیر محمدمرحوم پانچ سال مسلسل بیمار تھے شیر محمدمرحوم کے والد صاحب کے انتقال سے شیر محمد کے انتقال تک شیر محمد مرحوم کے بھائیوں نے نہ حصے کی بات کی اور نہ بٹوارے کی بات کی۔
نوٹ :شیر محمد مرحوم نے بچوں سے کہا تھا کہ یہ گھر میری اولاد کا ہے،اس میں کسی کا حصہ نہیں ہے، اس کے گواہ موجود ہیں اور شیر محمد نے بچوں سے بھی کہا تھا کہ گھر آپ کا ہےاس میں کسی کا حصہ نہیں ہے، بچے گواہ ہیں، شیر محمد مرحوم کے اس گھر کا حصہ اور بٹوارہ کرنے کے دعویدار چار بھائی تین بہنیں اور بیوہ (شیر محمد کی امی )ہیں،کیا اس گھر میں ان کا حصہ ہوگا؟
حوالہ جات
"الدر المختار " (5/ 688):
"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح".
"الفتاوى الهندية "(6/ 449):
"والثالثة - الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
14/صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


