| 89962 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم محترم ؛ اگر سر میں دانے یا زخم ہوں اور حلق اور قصر نہ کر سکتا ہو تو احرام سے کیسے نکل سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حج و عمرہ کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے حلق کرنا، یا قصر یعنی انگلی کے ایک پورے کے بقدر بال کاٹنا واجب ہے۔تاہم اگر سر میں زخم یا ایسے دانے ہیں کہ استر اچلانا تکلیف دہ اور مضر ہے ، اور بال بھی ایک پورے سے کم ہیں کہ قصر نہیں ہو سکتا تو اگر ممکن ہو تو احتیاط کے ساتھ استرا پھیر دیا جائے ، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو محض حلال ہونے کی نیت کرنے سے احرام کھل جائے گا یعنی حلال ہو جائے گا، اور کچھ دم وغیرہ بھی لازم نہیں ہو گا ۔البتہ حج کے موقع پر بہتر یہ ہے کہ حلال ہونے کی نیت کو ایام تشریق تک مؤخر کیا جائے تاکہ اس مدت تک اگر زخم صحیح ہو جائیں تو حلق یا قصر کیا جاسکے اگر مؤخر نہ بھی کریں تب بھی کوئی دم وغیرہ لازم نہیں ہوگا ۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 32):
ويجب إجراء موسى على الأقرع على المختار ولو كان على رأسه قروح لا يمكن إمرارالموسى عليه ولا يصل إلى تقصيره فقد حل... قوله فقد حل) أي كما لو حلقه والأحسن تأخير إحلاله إلى آخر أيام التشريق كالمتيمم الطامع وجود الماء في آخر الوقت وعدم وجود الموسى أو الحالق ليس بعذر؛ لأن وجود ذلك مرجو في كل وقت اهـ.
غنیة الناسک : كتاب مناسك منى يوم النحر، فصل في الحلق، مطلب إذا تعذر الحلق والتقصير سقطا جميعا، ص: 280 ، ط: المصباح)
"يجب إجراء الموسى على الأقرع و ذي قروح إن أمكنه هو المختار، و إن تعذر جميعا بأن يكون شعره قصير او برأسه قروح لا يمكنه الحلق سقطا عنه وحل بلا شيئ ، والأحسن أن يؤخر الإحلال إلى آخر أيام النحر و إن لم يؤخر فلا شيئ عليه.
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
12 /شعبان المعظم / 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


