03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سید کے لیے زکاۃ لینے کا حکم
89955زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میرے پر دادا، جو میرے ابو کے دادا تھے، بچپن میں انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ انہیں اپنا شجرہ یا خاندان کا تفصیلی علم نہیں تھا، بس اتنا جانتے تھے کہ وہ حیدرآباد سے ہیں، اور وہ یہ کہتے تھے کہ ہم شیخ ہیں۔ وہ دنیا سے چلے گئے۔اس کے بعد، آج سے تقریباً پچیس سال پہلے، میرے ابو کی پھپھو اور میرے ابو کے چچا انڈیا گئے، اور وہاں جو خاندان کے لوگ رہ گئے تھے اُن سے شجرہ کے بارے میں معلوم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم شیخ نہیں بلکہ سیّد ہیں۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے آدھے خاندان والے اپنے نام کے ساتھ سیّد لکھتے ہیں اور آدھے شیخ لکھتے ہیں۔ میرے ابو کی پھپھو اور چچا کی بات پر آدھے لوگوں نے یقین کیا اور آدھے لوگوں نے نہیں کیا۔ میرے دادا نے اس بات پر یقین نہیں کیا کہ ہم سیّد ہیں، پھر میرے ابو نے بھی یقین نہیں کیا۔اب میں بڑا ہوچکا ہوں، لیکن میرے ابو اور دادا دونوں اس دنیا میں نہیں رہے، اور جن لوگوں نے یہ کہا تھا کہ ہم سیّد ہیں، یعنی پھپھو اور چچا، وہ بھی اب نہیں رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم نے شجرہ دیکھا ہے، لیکن اب وہ شجرہ ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں زکوٰۃ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ اس بارے میں مجھے رہنمائی چاہیے۔ میں اپنے نام کے ساتھ شیخ لکھتا ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔اور اگر میں زکوٰۃ نہیں لے سکتا تو کیا میری امی زکوٰۃ لے سکتی ہیں؟ اگرچہ میں واقعی سیّد ہی ہوں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سیّد  ہاشمی کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔ نیز اس کے لیے شجرۂ نسب موجود ہونا ضروری نہیں ، شہرت بھی کا فی ہے ۔ پس اگر آپ کے ابو کے چچا اور پھپھو  نے شجرۂ نسب دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، تو اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، لہٰذا اس صورت میں آپ کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہوگا ۔تاہم اگر آپ کو ان کی بات پر اعتماد نہیں ہے اور آپ اسے رد کرتے ہیں، نیز پہلے سے شہرت بھی موجود نہیں   تو آپ پر سادات کے احکام لاگو نہ ہوں گے ۔نیز آپ کی امی اگر سیدہ نہ ہوں تو وہ زکوٰۃ لے سکتی ہیں۔ اپنے لیے وہی لقب تجویز کیجئے جو اوپر کی تفصیل سے طے ہوجائے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 112)

ولا تدفع إلى بني هاشم " لقوله عليه الصلاة والسلام " يا بني هاشم إن الله تعالى حرم عليكم غسالةالناس وأوساخهم وعوضكم منها بخمس الخمس " بخلاف التطوع لأن المال ههنا كالماء يتدنس بإسقاط الفرض أما التطوع فبمنزلة التبرد بالماء.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 284)

ولا يجوز أن يعطى من الزكاة فقراء بني هاشم، ولا مواليهم، قال عليه السلام «الصدقة محرمة على بني هاشم» ومولى القوم من أنفسهم، وقال عليه السلام: «يا بني هاشم إن الله تعالى كره لكم غسالة الناس، وعوضكم منها بخمس الخمس من الغنيمة»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 350)

(و) لا إلى (بني هاشم) إلا من أبطل النص قرابته وهم بنو لهب، فتحل لمن أسلم منهم كما تحل لبني المطلب. ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع، وقول العيني والهاشمي: يجوز له دفع زكاته لمثله صوابه لا يجوز نهر (و) لا إلى (مواليهم) أي عتقائهم فأرقاؤهم أولى لحديث «مولى القوم منهم»

امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

24/شعبان/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب