| 89278 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں ایک شخص حیات ہے، اُس شخص نے اپنی جائیداد میں سے اپنی بیٹیوں کو زندگی میں ہی تیس تیس لاکھ روپے دیے ہیں اور اُن سے ایک تحریری دستاویز پر دستخط لیے ہیں کہ: “ہم اپنے والد کی وفات کے بعد میراث میں کوئی حصہ یا دعویٰ نہیں کریں گی۔” بیٹیوں میں سے ایک بیٹی نے اس دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کے بعد والد صاحب نے اُس بیٹی سے قطع تعلق کر لیا ہے، آنا جانا بند کر دیا ہے، اور اُس سے رشتہ و ملاقات ختم کر دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ۱:۔ کیا والد کی طرف سے اپنی زندگی میں دی گئی یہ رقم میراث شمار ہوگی یا ہبہ (تحفہ) کہلائے گی۲: کیا بیٹیوں سے یہ تحریری وعدہ یا اقرار لینا کہ وہ بعد میں میراث کا دعویٰ نہیں کریں گی شرعاً درست اور جائز ہے؟۳: اگر والد بعد میں انتقال کر جائے تو کیا بیٹیوں کو میراث میں شرعی حصہ ملے گا یا نہیں؟ ۴:جس بیٹی نے دستخط کرنے سے انکار کیا ہے، اور اس پر والد نے اُس سے قطع رحمی کر لی ہے، تو شریعت کی روشنی میں اس بیٹی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ والدین کو راضی کرنے کے لیے دستخط کر دے، یا اپنے شرعی حق پر قائم رہے؟ ۵: اگر والد صاحب کی دوبارہ رضامندی دستاویز کے دستخط پر منحصر ہو، تو کیا بیٹی دستخط کردیں ؟ جبکہ بیٹی حقیقتاً دل سے چاہتی ہے کہ کچھ ملے یا نہ ملے لیکن والد صاحب راضی رہیں اور اس صورت میں والد صاحب کے لیے شرعاً کیا حکم ہے کہ وہ اپنی اولاد سے قطع تعلق کریں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر والد اپنی زندگی میں بیٹیوں کو کچھ رقم دے کر والد کے انتقال کے بعد میراث سے دستبرداری کا معاہدہ لکھوا کر دستخط کروالے تو محض اس کی وجہ سے بیٹیاں والد کے انتقال کے بعد ان کی میراث سے محروم نہیں ہونگی،کیونکہ وراثت شرعی حق ہے جو وفات کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے ۔اپنی زندگی میں محروم کرنا جائز نہیں ۔لیکن چونکہ مذکورہ بیٹیوں نے کچھ رقم لے کر معاہدہ کیا ہے اس لئےان پر لازم ہے کہ وہ اُس معاہدے کی پاسداری کریں اور میراث میں سے کوئی معمولی چیز لیکر اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں تاکہ معاہدے کی خلاف ورزی بھی نہ ہو اور دوسرے ورثاء کو بھی وراثت میں سے انصاف کے ساتھ حصہ مل سکے۔
نیز بیٹی کا دستخط نہ کرنا اس کا شرعی حق ہے، اس پر والد کا قطع تعلق کرنا گناہ ہے۔یہ والد کی غلط روش ہے کہ وہ کسی شرعی حق پر ناراضی کا اظہار کرے۔ البتہ بیٹی کو چاہیے کہ:والد سے حسن سلوک کرے۔ادب و احترام میں کمی نہ کرے۔
حوالہ جات
يَٰٓاَیّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوفُواْ بِالعُقُودِ(المائدة: 1)
وَأَوفُواْ بالعهد ان العهد كان مسـولا [الإسراء: 34]
تفسير أبي سعود (إسراء: ۳۴):
(وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ) سواء جرى بينكم وبين ربكم أو بينكم وبين غيركم من الناس والإيفاء بالعهد والوفاءُ به هو القيام بمقتضاه والمحافظة عليه ولا يكاد يُستعمل إلا بالباء فرقا بينه وبين الإيفاء الحسيِّ كإيفاء الكيل والوزن (إِنَّ العهد) أظهر في مقام الاضمار إظهارا لكمال العناية بشأنه أو لأن المرادَ مطلقُ العهد المنتظمِ للعهد المعهود (كَانَ مَسْؤُولا) أي مسئولا عنه.
جواهر الفتاوی (۷۲۹):
المريض إذا عين لأحد من الورثة شيئامعينا من دار، أو أرض على أن لا يكون له في سائر التركة حق، فإنّه يجوز، وكيف يجوز للمريض إیثار بعض الورثة على بعض؟ وكيف يجوز للورثة إسقاط حقه من التركة قبل الموت؟ قال رضي الله عنه: أراد بذلك إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته، فحينئذ يكون تعيين الميت كتعیین باقي الورثة معه، ثم لو صالح باقي الورثة، بعد موته على ذلك من نصيبه من التركة، جاز هكذا. (کتاب الوصایا: الباب الثاني)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 655):
قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ.
الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص272):
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك۔
تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (8/ 116):
الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


