| 89094 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
سوال : کیا ایسی آن لائن ملازمتیں اختیار کرنا جائز ہے جن میں کام کا وقت غیر متعین ہو، لیکن ذہنی دباؤ یا صحت کو نقصان پہنچتا ہو؟ کیا یہ شرعی طور پر مکروہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرکام شرعاجائزہے،توصورت مسئولہ کو شرعا مکروہ نہیں کہہ سکتے،کیونکہ کام شروع کرتےوقت یاکمپنی اور کسی ادارےسےمعاہدےکےوقت یہ امورپہلےسےطےکیےجاتےہیں کہ کتناوقت کام ہوگا،اس اعتبارسےاگر پہلےسےطےشدہ معاہدہ کےتحت ہےتو شرعا کام کرنےوالااس کا پابند ہوگا،ہاں اگر وہ سمجھتاہےکہ اس کام کی وجہ سےذہنی دبا واور صحت متاثر ہورہی ہےتو اس کو چھوڑ کرکوئی دوسراکام کرسکتاہے۔
اوراگرکام شروع کرتےوقت یا معاہدہ میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی،بعدمیں زیادہ وقت کامطالبہ کیا گیاہویا وقت کےغیرمعین ہونےکی وجہ سےعبادات اور دیگر معاملات بھی متاثر ہورہےہوں تو ایسی صورت میں اس کام کو شرعا مکروہ کہاجائےگا۔ایسی صورت میں بھی آمدنی بہرحال حلال ہوگی۔
حوالہ جات
۔
محمد بن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الاولی 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


