03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی یافردکےساتھ معاہدہ میں اسلامی اصول بیع و اجرت کالحاظ رکھنا
89092اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

سوال :  اگر کسی کام میں کسی دوسرے ملک کی کمپنی یا فرد کے ساتھ معاہدہ ہو، تو کیا اس میں اسلامی اصولِ بیع اور اجرت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی چونکہ مسلمان بہرحال شرعی احکام کامکلف ہے،اس لیےکسی بھی ملک کی کمپنی یا فردکےساتھ معاملہ کی صورت میں  ایک مسلمان کےلیے شرعااس معاملےکےشرعی اصول وضوابط کالحا ظ رکھنا ضروری ہے،لہذا

خریدوفروخت اورتجارت  کامعاملہ ہو،اجارہ اورکرایہ داری کامعاملہ ہویا شرکت ومضاربت کاجوبھی معاملہ ہو، اس کےبنیادی اصول وضوابط کا لحاظ رکھناضروری ہوگا۔

حوالہ جات

۔

محمد بن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/جمادی الاولی 1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب