| 89774 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں اپنی امی کے ساتھ رہتی ہوں، میرے اوپر میری ماں کے کیا حقوق ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اللہ تعالی کے بعدانسان پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے ۔ قرآن و سنت میں ماں کے ساتھ حسنِ سلوک، اطاعت اور خدمت کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ ذیل میں ماں کے بنیادی حقوق بیان کیے جاتے ہیں:
ماں کے ساتھ نرمی، محبت، ادب اور شفقت کے ساتھ پیش آنا ہر حال میں لازم ہے۔ سخت لہجہ، بدتمیزی یا بے ادبی سخت گناہ ہے۔ مباح یا جائز امور میں اطاعت واجب ہے۔ البتہ اگر وہ کسی گناہ کا حکم دے تو اطاعت نہیں، مگر پھر بھی ادب اور نرمی لازم ہے۔ ہر حال میں ماں کی خدمت پر دھیان دینا چاہیے خصوصا بیماری، بڑھاپے اور کمزوری میں ماں کی خدمت کرنا اولاد کی بڑی ذمہ داری ہے،خدمت میں کوتاہی کرنا سخت محرومی کا سبب ہے۔ اگر ماں محتاج ہو تو اولاد پر اس کا خرچ واجب ہے، چاہے اولاد شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو۔ ماں کو محتاج چھوڑ دینا گناہ ہے۔ ماں کی بات غور سے سننا، اس کے سامنے آواز پست رکھنا، اس کی رائے کا احترام کرنا اور اس کی توہین سے بچنا لازم ہے۔ ماں کو وقت دینا، اس کی تنہائی اور احساسِ ضرورت کو پورا کرنا، اور اس کی صحبت کا اہتمام کرنا۔ ماں کے لیے زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی دعا کرنا اولاد کی ذمہ داری ہے۔ ماں کی ناراضی اللہ کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے۔اس لیے اس سے بہت بچنے کی کوشش کرنا۔اگر ماں سخت مزاج یا کمزور ہو جائے تو اس پر صبر کرنا، اس کی باتوں کو برداشت کرنا اور بدلہ نہ لینا اعلیٰ اخلاق ہے۔ماں کے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، ان کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ رکھنا، کیونکہ ماں کی عزت میں ان کا بھی حق شامل ہے۔البتہ اگر گھر میں والد، بھائی، بہن یا شوہر جیسے دیگر افراد بھی ہوں تو ماں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان سب کے حقوق میں بھی توازن رکھنا ضروری ہے۔ماں کے حقوق کی ادائیگی کے نام پر دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنا جائز نہیں، کیونکہ شریعت ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینے اور اعتدال و انصاف قائم رکھنے کا حکم دیتی ہے۔
حوالہ جات
سورة الاسراء: 23.24
وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما وقل لهما قولا كريما (23) واخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا (24)
سورةاللقمان:14,15
ووصينا الإنسان بوالديه حملته أمه وهنا على وهن وفصاله في عامين أن اشكر لي ولوالديك إلي المصير (14) وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا واتبع سبيل من أناب إلي ثم إلي مرجعكم فأنبئكم بما كنتم تعملون (15)
تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (10/ 76)
واعلم أن الإحسان إلى الوالدين هو أن يقوم بخدمتهما، وألا يرفع صوته عليهما، ولا يخشن في الكلام معهما، ويسعى في تحصيل مطالبهما والإنفاق عليهما بقدر القدرة من البر، وأن لا يشهر عليهما سلاحا، ولا يقتلهما، قال أبو بكر الرازي: إلا أن يضطر إلى ذلك بأن يخاف أن يقتله إن ترك قتله، فحينئذ يجوز له قتله،
فتح البيان في مقاصد القرآن (1/ 213)
)وبالوالدين إحساناً) أي معاشرتهما بالمعروف والتواضع لهما وامتثال أمرهما وسائر ما أوجبه الله على الولد لوالديه من الحقوق، ومنه البر بهما والرحمة لهما والنزول عند أمرهما فيما لا يخالف أمر الله ويوصل إليهما ما يحتاجان إليه، ولا يؤذيهما وإن كانا كافرين، وأن يدعوهما إلى الإيمان بالرفق واللين، وكذا إن كانا فاسقين يأمرهما بالمعروف من غير عنف، ولا يقول لهما أف.
العدة في شرح العمدة في أحاديث الأحكام لابن العطار (1/ 283)
وقد تقدم -في هذا الحديث- بِرُّ الوالدبن على الجهاد، وهو دليل على تعظيم بِرِّهما، ولا شكَّ أنَّ أذاهما بغير موجب محرمٌ، وممنوع منه، وأما ما يجب من البر، ففي ضبطه إشكال، وكلام طويل...وبِرُّهما: الإحسانُ إليهما، وفعلُ الجميل معهما، وفعلُ ما يسرُّهما، ويدخل فيه: الإحسانُ إلى صديقِهما؛ كما ثبت في الصحيح: "إنَّ مِنْ أَبَرَّ البرَّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ"
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۲۰/رجب /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


