03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا
89866گروی رکھنے کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

زید عمر کا مکان کرایہ پر یا زمین کا شت کاری کے لیے لیتا ہے اور معاملہ اس طرح طے ہوتا ہے کہ زید عمر کو في الحال پانچ لاکھ روپے دےگا،اور وه عمر کی زمین یامکان پانچ یا دس سال متعینہ مدت تک استعمال کر ےگا ،مدت کے پورے ہونے کے بعد عمر زید سے لی ہوئی رقم واپس دیکر اپنی زمین یا مکان و اپس لے گا اس طرح کا معاملہ شرعا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ مرتہن کے لیے گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز نہیں، خواہ مالک کی اجازت ہی سے کیوں نہ ہو۔ اس کی جائز متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زید، عمر کا مکان یا زمین متعین مدت اور متعین اجرت کے ساتھ کرایہ پر لے لے، اور یہ رقم ایڈوانس کرائے  کے طور پر  دے دے۔ پھریا تو پوری مدت استعمال کرےیا  جب معاملہ ختم ہو جائے تو زید مکان یا زمین واپس کر دے اوربقایا  ایڈوانس کرائے واپس لے لے۔

حوالہ جات

   الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار: 7/308

( لا انتفاع به مطلقا ) لا باستخدام ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة ۔( قوله وقيل لا يحل للمرتهن ) قال في المنح : أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن ، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا ، وهذا أمر عظيم ۔۔قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع ، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط ، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع ،

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (5/310)

لاَ یَحِلُ لَه اَنْ یَنْتَفِعَ بِشَیٍٴ مِنه بِوَجْه مِنَ الْوُجُوه اِنْ اَذِنَ لَه الْرَّاهنُ لأنَّه أذِنَ لَه في الْرِبَوا ‘‘.

عبداللہ المسعود

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

۲۰/رجب ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب