03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنے کا حکم
89945نکاح کا بیاننکاح کی وکالت کابیان

سوال

کیا قاضی صاحب ایک ہی وقت میں وکیل اور گواہ بن سکتے ہیں؟

تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے ایک نکاح پڑھایا ہے، جس میں سائل لڑکی کی طرف سے وکیل تھا، اور لڑکی خود بھی مجلسِ نکاح میں موجود تھی۔ لڑکا (دلہا) بھی موجود تھا، اور مجلسِ نکاح میں دو لڑکے بطورِ گواہان موجود تھے۔ یہ نکاح لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں سے پوشیدہ طور پر ہوا ہے، اور انہیں اس کا علم نہیں ہے۔
البتہ لڑکی کے گھر والے رشتہ دینے پر راضی ہیں، جبکہ لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قاضی  صاحب کا ایک ہی وقت میں نکاح خوان ،وکیل اور گواہ بننا جائز ہے۔

اگر لڑکا لڑکی کا کفو ہے توبیان کردہ صورت کے مطابق یہ نکاح درست ہے، کیونکہ اس میں ایجاب و قبول دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا ہے۔تاہم ایسے (چھپ چھپا کر) نکاح کرنے کے بجائے اپنے بڑوں کی اجازت سے اعلانیہ نکاح کرنا چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جو نکاح اس طرح اپنی رائے سے والدین کی اجازت اور مرضی کے بغیر کیے جاتے ہیں، وہ دیرپا نہیں ہوتے۔اور اگر لڑکا لڑکی کا کفو نہیں ہے تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 269):

ومن أمر رجلا أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح وإلا فلا، كذا في الكنز قالوا إذا زوج ابنته البكر البالغة بأمرها وبحضرتها ومع الأب شاهد آخر صح النكاح وإن كانت غائبة لا يصح، كذا في محيط السرخسي.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(3/ 97):

ومن أمر رجلا أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح، وإلا فلا) ؛ لأن الأب يجعل مباشرا للعقد باتحاد المجلس ليكون الوكيل سفيرا، ومعبرا فبقي المزوج شاهدا، وإن كان ‌الأب غائبا لم يجز؛ لأن المجلس مختلف فلا يمكن أن يجعل ‌الأب مباشرا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 267):

(ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان ولو عقدا النكاح بلفظ لا يفهمان كونه نكاحا ينعقد، وهو المختار هكذا في مختار الفتاوى ...ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولا ينعقد بشهادة المرأتين.

حاشية ابن عابدين:(3/23(

(وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

06/شعبان  المعظم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب