03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیزوفرینیا (ذہنی اختلال) کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم
89434طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

میں 2005 میں والدہ اور دو بھائیوں کے ساتھ امریکہ منتقل ہوا، جہاں پڑھائی اور ملازمت کے بعد 2011 میں ہم نے مل کر پٹرول پمپ کا کاروبار شروع کیا۔ 2014 میں بھائی کی شادی کے بعد جائیداد اور حصے داری کے معاملات پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔2018میں والد اور بھائیوں نے میرے حق کے مطالبے سے تنگ آ کر میرے خلاف چوری اور بعد میں قتل کے منصوبے کے جھوٹے مقدمات بنا دیے۔ ان مقدمات نے میری زندگی کو قانونی مقدمات، عدالتوں کی تاریخوں اور گرفتاریوں میں جکڑ لیا، جس سے میں شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور انزائٹی میں مبتلا ہو گیا۔ تنہائی اور خوف نے میری حالت مزید خراب کر دی اور میں روزگار بھی حاصل نہ کر سکا۔

ذہنی دباؤ بڑھتے بڑھتے 2022 میں اس حد تک پہنچ گیا کہ میں نے لوگوں کے پیچھا کرنے، ایف بی آئی اور سی آئی اے کی نگرانی اور موبائل و کمپیوٹر کی جاسوسی جیسے خیالات کو حقیقت سمجھنا شروع کر دیا۔ یہ کیفیت آہستہ آہستہ سائیکوسس میں تبدیل ہو گئی، جس میں میں حقیقت اور وہم کا فرق کھونے لگا اور بار بار فون، کمپیوٹر اور کیمرے بدلتا رہا۔

عدالتی کیس کے بعد چند نامعلوم افراد کے بار بار دروازہ کھٹکھٹانے سے میرا خوف اس حد تک بڑھ گیا کہ میں نے وکیل پر بھی شک کر کے خود کو سب سے الگ کر لیا۔ پھر میرا وہم اس درجہ تک پہنچا کہ مجھے لگا میرا موبائل فون مجھے ریکارڈ کر رہا ہے، اسی لیے میں کبھی اسے بند کر دیتا اور کبھی استعمال چھوڑ دیتا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت کے دوران بدعنوانیوں کو دیکھ کر میرا عدم اعتماد بڑھا اور مجھے گمان ہونے لگا کہ حکومتی ادارے اور میری ملازمت کی کمپنی بھی میرے خلاف ہیں۔ آہستہ آہستہ میں اس وہم میں مبتلا ہو گیا کہ کوئی مائیکروچِپ دماغ سے خیالات پڑھ سکتی ہے اور شاید میرے دماغ میں بھی نصب ہے، اسی لیے یوٹیوب پر متعلقہ ویڈیوز دیکھ کر میرا شک یقین میں بدلتا گیا۔یہ وسوسے بڑھتے گئے اور میں نے سب کچھ دجال کے فتنے اور خفیہ تجربات سے جوڑ لیا۔ میں نے باہر نکلنا، ڈرائیونگ کرنا اور لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا، حتی کہ گھر میں بھی مجھے خطرات محسوس ہوتے۔ والدہ نے میری حالت دیکھ کر علاج کا کہا مگر میں بیماری ماننے کو تیار نہ تھا۔ اکتوبر 2023 میں کیس ختم ہوا مگر شک اور خوف کم نہ ہوا، یہاں تک کہ ایک رات میں نے گمان کیا کہ کمرے میں زہریلی گیس چھوڑ دی گئی ہے، جس کے باعث میں واشنگٹن ڈی سی تک بغیر تیاری کے گاڑی چلاتا گیا۔

واپس آ کر حالات مزید بگڑ گئے، گھر سے نکالا گیا، بھائی نے بھی مدد نہ کی اور مجھے پاکستان جانے کا مشورہ دیا، جسے میں نے مجبوراً مان لیا۔ پاکستان پہنچ کر اہلیہ اور بچوں سے ملا مگر چند دن بعد دوبارہ وہم شروع ہو گئے کہ فون سنے جا رہے ہیں، کیمرے لگے ہیں، اور سسرال والے بھی کسی سازش کا حصہ ہیں۔ اس طرح خوف، شک اور تنہائی نے میری زندگی کو مسلسل بے چینی میں ڈالے رکھا۔

مجھے لگنے لگا جیسے سب نے طے کر لیا ہے کہ مجھے قربان کر کے باقی خود کو بچائیں گے۔ گھر کی ماسی تک خفیہ ایجنٹ محسوس ہوتی، کھانے میں زہر کا شک رہتا اور میں صرف دوسروں کے بعد بچا ہوا کھانا کھاتا۔ ہر معمولی بات میرے خلاف اشارہ لگتی، یہاں تک کہ بچوں پر بھی یقین نہ رہا کہ شاید وہ کسی خوف زدہ منصوبے کے تحت مجھ سے بات کر رہے ہوں۔گھر سے نکلنا چھوڑ دیا، فون اور کمپیوٹر پر اعتماد نہ رہا، بار بار نئے ڈیوائس خریدتا مگر جلد ہی ان پر بھی شک ہو جاتا۔ رفتہ رفتہ میرا یقین بن گیا کہ حکومت، فوج، ادارے، حتی کہ عام لوگ اور پڑوسی بھی میرے خلاف ہیں۔ بچوں کو پارک لے جانے والی آنٹی تک ایجنٹ لگنے لگیں۔

اگست 2023 میں والدہ آئیں تو گھر والوں نے میرے رویے کی وضاحت طلب کی، مگر میں نے انہی پر شک کر لیا کہ وہ مجھے قابو کرنے آئی ہیں۔ علاج سے انکار کیا اور غصے میں والدہ کو گھر سے نکال دیا۔ اب مجھے پورا محلہ بھی مخالف محسوس ہونے لگا۔ یادداشت کمزور ہوئی، آوازوں اور حرکات میں خفیہ پیغامات سنائی دینے لگے۔وقت اور دنوں پر اعتماد بھی جاتا رہا۔ میں محسوس کرتا کہ میں ایک دن پیچھے چل رہا ہوں۔ جمعہ کے صحیح دن کا یقین کرنے کے لیے علامات ڈھونڈتا،جیسے ہوٹل میں حلوہ پوری۔ ایک دن نہ ملی تو نتیجہ نکال لیا کہ آج جمعہ نہیں ہے۔ اس وہم نے مجھے تقریباً ایک سال جمعہ ادا نہ کرنے دیا۔قرآن کے نسخے مشکوک لگنے لگے، ان میں تبدیلی کا وہم رہنے لگا، یہاں تک کہ مسجد کے قرآن کو بھی غلط سمجھ کر دوسروں کو بتانے لگا۔

اسلام آباد گیا تو وہاں بھی ہوٹل، عملہ، ٹیکسی ، سب مشکوک محسوس ہوئے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ فون قابو کر لیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ڈیڑھ ہفتہ اسی خوف میں گزارا۔بعد میں شک اور بڑھ گیا کہ فون اور انٹرنیٹ ہیک ہو چکے ہیں۔ ایک دن  تو میں نے بیوی پر بھی الزام لگا دیا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے اور سب کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ غصے میں فون توڑ دیا اور کہا کہ اب مجھے کسی پر بھروسہ نہیں رہا۔

اگلے دن میری والدہ نے کچھ پیسے بھجوائے۔ پیغام بیوی کے فون پر آیا، مگر اس نے مجھے پیسے نہیں دیے۔ مجھے لگا وہ کچھ چھپا رہی ہے۔ ہم دونوں میں سخت جھگڑا ہوا۔ ساری رات نیند  نہیں آئی ، جس پر میں نے 8سے10  Alprazolan 5 mgگولیاں کھائی مگرمجھے اس کے باوجود نیند نہیں آئی۔ صبح پھر  بیوی سے جھگڑنے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے میں 8سے10  Alprazolan 5 mg کھائی،  اس کے ساتھ 2 گولیاں    Rittal 10 mgکھائی، جبکہ ڈاکٹر کی ہدات کے مطابق دن میں ایک گولی لینی  ہوتی ہے ۔ اس جھگڑے کی وجہ مجھے یاد نہیں کہ جھگڑا کیوں ہوا تھا ۔ اسی  دوران بیوی نے کہا:اگر تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں تو مجھے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟ میں نے غصے  اور ذہنی انتشار میں فورا کہہ دیا کہ اگر یہی بات ہے تو طلاق، طلاق، طلاق ۔(یہ باتیں مجھے بیوی نے بتائی کہ آپ کو میں نے  یوں کہا جس پر آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ بولے)۔اس وقت مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ میں نے کیا کہا ، کس کو کہااور اس کا کیا مطلب تھا ، لیکن جب یہ بات میری ساس نے میرے سسر کو بتائی  تو وہ دونوں خاموش ہوگئے۔ وہ خاموش ہوئے تو مجھےان کے رویے سے لگا  کہ واقعی میں نےجو الفاظ کہے اس کا یہ مطلب تھا   ۔کیونکہ میں نے پہلے سے اتنی گولیاں کھائی  تھی اور اسی وقت  دورا بھی پڑا تھا  ، ایسا دورا جس کی مدت منٹوں سے لے کر گھنٹوں تک ہوتی ہے ، اس دورے میں انسان کی سوچ کام چھوڑ دیتی ہے ۔

مزید شور شرابہ کرکے پھر میں گھر سے نکل گیا، لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ یہ الفاظ میں نے  بیوی کے جواب میں کہے۔ اس کے بعد کا منظر میری یاد سے مٹ گیا ، بس یہی یاد ہے کہ دماغ مکمل طور پر بکھر چکا تھا۔ حافظہ، نیند، سوچ  سب کچھ گڈمڈ ہو چکا تھا۔

جس دن وہ شدید دورہ آیا، اُس دن ذہن پر قابو نہ رہا۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ پیسوں کی بات ہوئی تھی، کسی سوال کے جواب میں کچھ کہا، اور اچانک میں گھر سے نکل گیا۔ اس کے بعد کا منظر دھندلا ہے  بس اتنا یاد ہے کہ میں ایک ہوٹل میں جا پہنچا اور وہاں تقریباً بیالیس دن اکیلا رہا۔میں نے خود کو دنیا سے الگ کر لیا، فون بند رکھا۔ ٹی وی پر پاکستان اور بھارت کی جنگ کی خبر دیکھی تو یقین ہوا کہ یہ سب میرے لیے رچایا گیا ہے، اور اینکرز میرے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ جلد ہی اجنبی آوازیں سنائی دینے لگیں، جن سے میں باتیں کرتا۔ ہوٹل والوں کو میری حالت عجیب لگی، اور میں سمجھتا تھا ایف آئی اے مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ ایئرپورٹ پر کلیئرنس کی بات سن کر میرا شک بڑھ گیا۔ بعد میں جب کراچی کے قونصل خانے گیا تو لگا سب اداکار ہیں جو میرے ذہن کو پڑھ رہے ہیں۔

ان دنوں میرا ذہن اس یقین میں ڈوبا تھا کہ میں نے سب کو بچا لیا ہے اور اب میری قربانی باقی ہے۔ ہر رات سوچتا کہ آج میری آخری رات ہے، وہ مجھے مار دیں گے، اور میں جنت میں جاؤں گا کیونکہ میں نے دجال کو دھوکا دیا ہے۔ جب پیسے ختم ہوئے تو بھائی کو فون کیا، مگر اُس نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس مجھے زبردستی اسپتال لے گئی، جہاں میں ساڑھے تین ماہ زیرِ علاج رہا، اب الحمد للہ طبیعت بہتر ہے ۔

ڈاکٹرنے معائنہ کرنے کے بعد کہا  کہ آپ کو  شیزفرینیا (ایک ذہنی بیماری )  لاحق ہے ۔

شیزوفرینیا (Schizophrenia)کیا ہے ؟

شیزوفرینیا ایک بنیادی ذہنی بیماری ہے جس میں انسان کے خیالات منتشر ہو جاتے ہیں، اور اس کے رویّے اور برتاؤ میں نمایاں تبدیلی آجاتی ہے۔ مریض کا طرزِ عمل عام معیار سے ہٹ جاتا ہے، اور وہ باتیں کرنے، سوچنے یا ردِ عمل ظاہر کرنے میں دوسروں سے مختلف ہو جاتا ہے۔

لفظ "شیزوفرینیا" کا مطلب ہے ذہن کا تقسیم ہو جانا یعنی انسان کی سوچ، احساسات اور حقیقت کے درمیان ربط ٹوٹ جانا۔ اس کے دو بڑے اسباب ہوتے ہیں: پہلا جینیاتی (وراثتی) اور دوسرا دماغی کیمیکلزکے توازن میں بگاڑ۔ دماغ میں موجود کیمیائی مادے جیسے ڈوپامین Dopamine اور Serotoninجب غیر معمولی طور پر زیادہ یا کم ہو جائیں تو انسان کے سوچنے اور محسوس کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے شیزوفرینیا جنم لیتی ہے۔

خاندانی ماحول، ذہنی دباؤ اور طرزِ زندگی بھی اس بیماری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب دماغی کیمیکلز غیر معمولی طور پر کام کرنے لگیں تو مریض کو وہ چیزیں سنائی یا دکھائی دیتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات وہ محسوس کرتا ہے کہ لوگ اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں، یا کوئی اس پر نظر رکھ رہا ہے۔

شیزوفرینیا کی علامات :

ان میں سب سے نمایاں علامت  Delusions یعنی وہ خیالات جو حقیقت کے خلاف ہوں۔ مثلاً مریض سمجھتا ہے کہ لوگ اس کے خلاف منصوبہ بنا رہے ہیں، یا اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ دو لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہوتا  اسے Delusion of Reference کہا جاتا ہے۔ بعض مریض یہ شک کرتے ہیں کہ ان کے شریکِ حیات وفادار نہیں  اسےDelusion of Infidelity کہا جاتا ہے۔

دوسری نمایاں مثبت علامت Hallucinations ہیں  یعنی ایسی آوازیں یا مناظر جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے لیکن مریض انہیں سن یا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ سب سے عام صورت Auditory Hallucinations ہیں، جن میں مریض کو آوازیں سنائی دیتی ہیں جو اسے کسی عمل کا حکم دیتی ہیں یا اس سے بات کرتی ہیں۔

مریض کا دوسروں سے میل جول ختم ہو جانا، خوشی محسوس نہ کر پانا، دلچسپی کھو دینا، یا کسی کام میں محنت کا جذبہ نہ رہنا۔ اسے Apathyکہا جاتا ہے  یعنی کسی بڑے واقعے یا خوشی میں بھی جذبات کا اظہار نہ ہونا۔ اسی طرح Anhedoniaوہ کیفیت ہے جس میں پہلے جو چیزیں خوشی دیتی تھیں وہ اب کسی اثر کے بغیر ہو جاتی ہیں۔کچھ مریضوں میں بول چال بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان کے جملے بے ربط اور غیر واضح ہو جاتے ہیں، بعض اوقات وہ نئے الفاظ گھڑ لیتے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ یادداشت، سوچنے سمجھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔

خلاصہ سوال   :

سائل شیزوفرینیا(ذہنی بیماری) مرض میں کافی عرصے سے مبتلا تھے، طلاق کے مذاکرہ کے وقت  شدید ذہنی انتشار، غصے، حافظے کی خرابی، اور  Alprazolam 5 mg 810دو مرتبہ اور دو گولیاں Rittal 10 mg (جو کہ دن میں ایک ایک کھانے کی ہدایت تھی )کھانے کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد اپنی بیوی کے سوال کے جواب  تین طلاق کے الفاظ ادا کیے، جبکہ مریض کو دورہ بھی پڑا تھا اپنے حواس پر قابو نہیں تھا ، یادداشت اور بات کی سمجھ نہیں تھی کہ کس کو کیا کہاجارہا ہے، بعد میں وہ الفاظ بھی اسے بیوی اور سسرال والوں نے بتائے۔

مذکورہ واقعے کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ کیا شیزوفرینیا  بیماری کی حالت میں دی گئی  طلاق شرعاً نافذ ہوچکی ؟ جبکہ اُنہیں    اپنے اقوال و افعال پر قابو نہیں تھا ؟

تنقیح :سائل کی اہلیہ سے استفسار پر  درج ذیل  بیان موصول ہوا  :

اُن(جوہر صداقت )  کی دماغی بیماری کی شدت کے بارے میں میں کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتی، کیونکہ میں امراضِ چشم سے متعلق ڈاکٹر ہوں۔ اس وقت وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ اضطراب اور Hyper کیفیت میں تھے، لیکن بیماری کی شدت کا درست اندازہ میں نہیں لگا سکتی۔تاہم انہوں  نے طلاق کے الفاظ ادا کرنے کے بعد اپنا بیگ بنایا اور دوسری جگہ رہنے کے لیے چلے گئے۔اس بات کا اندازہ نہ ہونا کہ میرے جسم پر کپڑے ہیں یا نہیں، ایسا نہیں تھا۔اُنہیں اس کا پورا احساس تھا۔طلاق کے الفاظ انہوں نے مجھے ہی مخاطب ہو کر کہے ،وہ مجھ ہی سے مخاطب تھے، کسی اور سے بات نہیں کر رہے تھے۔یہ جوہر  صداقت کابیان ہے(وہ بیان جو انہوں دوسرے دار الافتاء میں دیا ، ساتھ منسلک ہے )۔ جس کے مطابق اُنہیں  پورا واقعہ کئی مہینے گزر جانے کے باوجود بھی من و عن لفظ بہ لفظ یاد تھا۔ یہ بیان انہوں  نے پچھلی مرتبہ دارالافتاء میں بھی درج کروایا تھا۔ براہِ مہربانی اس کا دوبارہ جائزہ فرما لیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات واضح رہے کہ طلاق دینے والاشخص اگر  اس  حد تک اپنے   ہوش و حواس میں نہ ہو کہ اُسےکوئی بات  سمجھ نہ آرہی ہواور صحیح و غلط میں تمیز نہ کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔البتہ اگر   طلاق دیتے وقت  غصہ کی حالت  ہو ، نفسیاتی کیفیت سے بھی دوچار ہو ،لیکن بات کو سمجھنے کی  صلاحیت رکھتاہو تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے  ۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کے احوال سے یہ بات واضح  ہے کہ اگرچہ آپ نفسیاتی طور  بیمارتھے ، مگر لڑائی کے وقت اور اس کے بعد کے حالات  وواقعات کایاد ہونا، اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طلاق دیتے وقت  آپ اپنے ہوش وحواس میں تھے۔ مزید یہ کہ جب  اہلیہ نے کہا کہ اگر تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں تو مجھے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟جس کے جواب میں آپ نے  تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے۔ اس سےبھی یہ  معلوم ہوتا ہےکہ آپ  اہلیہ کی بات کو سمجھے اوراُنہی کو مخاطب کرکے جواب دیا ۔نیز اہلیہ کے بیان کے مطابق  بھی بظاہر آپ اُن کی بات کو سمجھ رہے تھے اور اسی کے مطابق اُن کو  جواب دیا  ہے۔

 اسی طرح سابقہ فتویٰ کی تفصیل  سےبھی"  جس کاسوال آپ  کی رضامندی سے ،آپ کے الفاظ میں تحریر کیاگیا" اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ طلاق دیتے وقت اگرچہ آپ نفسیاتی مسائل کا شکار تھے، تاہم اس کے باوجود آپ کی سمجھ بوجھ  باقی تھی۔

لہٰذا مذکورہ بالا تمام واقعات وحقائق کےپیشِ نظر آپ کی دی ہوئی تینوں طلاقیں شرعاً واقع ہو چکی ہیں۔ نیز آپ کی اہلیہ کا بیان بھی اس حکم کی تصدیق کرتا ہے۔

یاد رہے کہ  آپ کا یہ دعوی کہ" آپ طلاق دیتے وقت اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھے،"بالفرض درست مان لیا جائے تو اس صورت میں بھی  چونکہ آپ کی اہلیہ نے طلاق کے واضح الفاظ سنے ہیں۔  لہٰذا اب آپ کی اہلیہ  شرعا اس بات کی پابند ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ نہ رہیں ۔

اس بنیاد پراب آپ دونوں کو ایک خاندان کے طور پر زندگی گزارنا درست نہیں ، خواہ اس وجہ سے کہ طلاق ہوچکی ہے جیسا کہ حالات سے ظاہر ہے یا پھر آپ کی اہلیہ کے بیان کے مطابق  کہ اُن پر طلاق واضح ہے ۔بہر صورت اب  اس نکاح کو جاری رکھنا درست نہیں  ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اہلیہ کو ایک طلاق دے دیں تاکہ اُنہیں آئندہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کی صورت میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے ،تاہم اگر آپ طلاق نہ بھی دیں تو عدت مکمل ہونے کی صورت میں وہ جہاں بھی نکاح کرنا چاہیں کرسکتی ہیں ۔

یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ بچوں کو ذہنی انتشار سے بچانااوراچھی تربیت دینا آپ دونوں کے ذمے ہے ۔لہٰذا اُن کے نان و نفقہ، رہائش، تعلیم اور علاج کے معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے، اور بچوں سے ملاقات کے لیے کوئی مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 244):

مطلب في طلاق المدهوش ... قلت: ‌وللحافظ ‌ابن ‌القيم ‌الحنبلي ‌رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.

الاختيار لتعليل المختار (4/ 149):

ومن ‌يجن ويفيق ففي حال جنونه له أحكام المجانين، وفي حال إفاقته أحكام العقلاء.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230].

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 251):

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 354):

والمرأة كالقاضي لا ‌يحل ‌لها ‌أن ‌تمكنه ‌إذا ‌سمعت ‌منه ذلك.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

28 /جمادی الآخرة /1447ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب