03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے کہنے پر گھر کی تعمیر میں خرچ کی گئی رقم کا مطالبہ کرنا
89423ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے دادا نے اپنی زندگی میں ایک گھر چھوڑا ہے جو انتقال کے وقت میری دادی مرحومہ کے نام ہو چکا تھا۔ اب ان ہی کے نام سے ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل میری دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے ترکے میں یہ گھر شامل ہے۔وارثین: دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں حیات ہیں- وضاحت ضروری ہے کہ میری بڑی پھوپی میرے دادا کی پہلی مرحومہ اہلیہ سے ہیں۔تقریباً 30 سال قبل، دادا اور دادی نے بڑے تایا کی شادی کے وقت بات کی کہ بیٹا اس گھر میں ستون ڈال کر طریقے سے ڈبل کر دو تاکہ تمہارے بڑے بھائی کی شادی میں ان کا رہنے کا انتظام کیا جا سکے۔ بڑے تایا صاحب نے والدین کے مطالبے پر بھی مکان میں پیسے لگانے سے معذرت کرلی تھی ۔ مگر الحمدللہ میرے والد نے ان کی خواہش پر اپنا ایک پانچ کمروں کا فلیٹ گلستان جوہر میں فروخت کر کے ساڑھے پانچ لاکھ روپے لگا کر گھر کو ڈبل کر دیا۔ جس کو تمام وارثین تسلیم کرتے ہیں۔ بیچا گیا فلیٹ آجکل تقریباً ڈھائی کروڑ مالیت کا ہے۔باہمی میٹنگ بھی بلائی کہ دادا دادی کی خواہش اور ہدایات کے مطابق میرے والد کو لگائی رقم دی جائے، مگر تمام لوگ میرے والد کے اس مطالبے پر برہم ہوگئے اور اس وقت لگائی ہوئی  رقم کو دینے سے مکر گئے ہیں۔اس سلسلے میں میری دادی مرحومہ کی آڈیو اور ویڈیو موجود ہے جو کہ مطالبے پر پیش کی جاسکتی ہے ۔گزشتہ کئی سال میرے والد نہ صرف یہ کہ بے روزگار رہے بلکہ شدید مالی تنگی کا بھی شکار رہے تھے اب الحمدللہ جاب پر ہیں۔اب گھر کی تقسیم ہو رہی ہے اور میرے ایک تایا اور پانچ پھوپھیوں نے وراثت تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرے والد کا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے لگائے ہوئے پیسوں کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کس طرح اور کتنا؟   

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد نے جب آپ کے داد  کے کہنے پر گھرکی تعمیر میں رقم خرچ کی  تو ان کو اپنے لگائے ہوئے پیسوں  کےمطالبہ کا حق حاصل ہے۔لہذا  صورت مسئولہ میں آپ کے والد  ترکہ  سے اتنی ہی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں جتنی انہوں نے اس وقت گھر کی تعمیر میں خرچ کی تھی ۔ اس کے بعد باقی مال بطور ترکہ تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر ط: دار الكتب العلمية (2/ 220):

قوله: كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها قيل: هذا إذا أطلق أو عينه للمالك، فلو عينه لنفسه فهو له ويكون مستعيرا للأرض فيكلفه قلعه متى شاء، فلو كان البناء في المشترك فهو مشترك بينهما، ويرجع بما أنفق إذا أطلق أو عيناه للشركة."

رد المحتار ط:  الحلبي  (6/ 747):

(قوله : عمر دار زوجته إلخ) على هذا ‌التفصيل ‌عمارة ‌كرمها ‌وسائر ‌أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره، ولو لنفسه بلا أمره، فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع، ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ.

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

22/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب