03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم کا ادارے کے کام کے علاوہ دوسرےکام پر اجرت لینا
89540اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ایسے محکمہ سے تعلق رکھتا ہوں جس کا ہر ملازم/افسر اپنے تعینات شدہ ایریا میں کافی اتھارٹی رکھتا ہے ، اور اس محکمہ میں کام کے بنسبت تنخواہ بہت کم ہے جبکہ حرام کمانے کے طریقے زیادہ ہیں۔  میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنی تنخواہ پر گزارا کروں ، جس کی وجہ سے میں نے خود کو less communication والے علاقے میں تعینات کروایا ہے تاکہ حرام لین دین سے مکمل بچ سکوں، اللہ نے مجھے سمجھ بوجھ دی ہے اور ٹیکنیکل کام پر تھوڑی گرفت دی ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی بجائے ریٹائرڈ ایکسپرینس ملازمین کے مجھے ساتھ اپنے کام کے لیے فیلڈ میں لے جاتے ہیں یا اپنے علاقے کے لوگوں کو میرے پاس بھیج دیتے ہیں کہ پرائیویٹلی ٹیکنیکل کام اس سے کروا لو ( جو کام سرکاری طور پر میرے ذمہ نہ ہوتے ہیں) ایسے کام اکثر ریٹائرڈ تجربہ کار ملازمین سے فیس دے کر لیے جاتے ہیں ،تو اسکے عوض کوئی فیس یا معاوضہ میرے لیے جائز ہوگا یا نہیں ؟ جزاکم  اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ادارے کی طرف سے جو اوقات کار ملازمین کے لیے  مقرر ہو ں تو ان میں کسی ملازم کو ادارے کے کام کے علاوہ کسی کام میں مشغول ہونا جائز نہیں ۔لہذا آپ کے لیے ادارے کے اوقات میں ادارے کے کام کے علاوہ کوئی دوسرا کام کرنا  جائز نہیں۔  البتہ اگر ادارے کے  اوقات کے علاوہ آپ  انفرادی طور پر  کام کریں  اور وہ کام آپ کے فرائض منصبی میں شامل نہ ہو تو اس کی اجرت لینا  آپ کے لیےجائز ہے  بشرطیکہ  اس کام کی پہلے سے کوئی اجرت طے ہو۔

حوالہ جات

الدر المختار مع رد المحتار ط: الحلبي (6/ 69):

"وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم)... وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل ."

قال العلامة ابن عابدين: (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) "بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة."

قال العلامة ابن عابدين :(قوله:  ولو عمل نقص من أجرته إلخ) "قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."

الفتاوى الهندية ط : دار الفكر بيروت(4/ 500):

"والأجير الخاص من يكون العقد واردا على منافعه ولا تصير منافعه معلومة إلا بذكر المدة أو بذكر المسافة."

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

29/جمادی الثانیہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب