| 89539 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب، میں اپنی والد کی وراثت میں سے بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا چاہتا ہوں، لیکن وہ قبول نہیں کر رہی ہیں۔ میں نے ہر بہن کو چھ لاکھ روپے کا چیک بھیجا، مگر ایک نے ایک لاکھ روپے لیے اور باقی دو نے کچھ نہیں لیا۔ میں چاہتا ہوں کہ شرعی طور پر کوئی حق باقی نہ رہے، براہ کرم رہنمائی فرمائیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ اپنی بہنوں کو یہ مسئلہ بتائیں کہ آپ کا حصئہ میراث ختم نہیں ہو سکتا الا یہ کہ آپ اس کے بدلے کچھ نہ کچھ وصول کریں۔لہذا آپ اپنے حصے کے بدلے کچھ رقم مجھ سے لے لیں تاکہ شرعی اعتبار سے میرے لیے یہ اموال حلال ہو جائیں ،پھر آپ ان کو کچھ رقم دے دیں تو اس سے آپ کے لیے اس ترکے میں تصرفات جائز ہو جائیں گے۔یہ اس صورت میں جب ترکہ صرف سامان یاجائیداد کی شکل میں ہو۔ البتہ اگر ترکہ میں سامان یا جائیداد کےساتھ کچھ نقد رقم بھی ہو اور جو وارث اپنے حصے سے دستبردار ہونا چاہتاہے تو اس کی نقد رقم میں جتناحصہ بنتا ہے اس کو اس سے زیادہ دینا ضروری ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية(4/ 268):
"إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا، وإن كانت التركة ذهبا، فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك ؛لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس ،فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس."
رد المحتارمع الدر المختار ط : الحلبي (5/ 642):
"(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة...(قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
1/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


