03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نامردی کی شرط سے تفویض طلاق کا حکم
89974متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

نامردی   کی  شرط سے تفویض طلاق کاحکم

ایک شخص نے عقدِ نکاح کے بعد اپنی بیوی کو مختلف شرائط کے ساتھ طلاق کا اختیار (تفویضِ طلاق) دیا، جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ "اگر شوہر نامردہو"۔ اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ساتھ چار راتیں ہمبستری کی کوشش کی (جس کے بعد اس کی بیوی مزید ساتھ نہیں رہی)۔ لیکن ان دنوں میں وہ ایک بار بھی ہمبستری نہیں کر سکا، کیونکہ اس کا عضوِ تناسل ضرورت کے مطابق سخت نہیں ہو رہا تھا۔وضاحت:اس کی صورتحال یہ تھی کہ فور پلے( (Forepla

کے دوران عضو میں مکمل انتشارہوتاتھا، لیکن ہمبستری شروع کرنے سے عین پہلے ڈھیلا پن آ جاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ صحبت نہیں کر سکا۔ تاہم پچھلے دنوں کے مقابلے میں ہر اگلے دن سختی کی مقدار زیادہ تھی۔  ایک ماہرِ جنسیات مسلم ڈاکٹر نے تمام معائنہ کرنے  کے بعد بتایا کہ اس میں کوئی جسمانی نقص نہیں ہے یہ صرف نئی تجربہ کاری کی وجہ سے پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ اور خوف ہے، جسے میڈیکل کی زبان میں "Situational Performance Anxiety" کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے بقول یہ مسئلہ عارضی ہے اور جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ سوالات:

1۔کس قسم کی معذوری کی وجہ سے بیوی شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہے؟ عارضی یا مستقل؟

 2۔کیا شرعی نقطہ نظر سے مذکورہ شخص کو "عنّین" (نامرد) قرار دیا جائے گا؟

 3۔ نکاح نامہ میں نامردی کی شرط پر جو طلاق کا حق (حقِ طلاقِ تفویض) دیا گیا ہے، کیا اس شرط کی بنیاد پر بیوی اب طلاق لے سکتی ہے؟ یعنی کیا اس شخص کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ (طلاق کی) شرط پائی گئی ہے؟

 4۔کیا مذکورہ صورتحال کی بنیاد پر بیوی ابھی طلاق لے سکتی ہے؟ یا شوہر کو ایک سال کی مہلت دینا ضروری ہے؟

 5۔ اگر بیوی ابھی طلاق لیتی ہے، تو کیا وہ مکمل مہر کی حقدار ہوگی؟ امید ہے کہ ان سوالات کے واضح جوابات عنایت فرما کر ممنون فرمائیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ تفویض طلاق کا مسئلہ ہے جس میں نامردی کاعرفی  معنی معتبر ہوگا۔

سوالات کے جوابات نمبرواردرج ذیل ہیں :

  1. اگر واقعۃً مذکورہ شخص عارضی طور پر جنسی کمزوری کا شکار ہو ،اور کسی ماہرڈاکٹر نے بھی اس کی تصدیق کردی ہو کہ یہ دائمی عجز نہیں بلکہ وقتی و نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ہے، تومحض وقتی کمزوری یانفسیاتی دباوکی و جہ سے مباشرت کے قابل نہ ہونا نامردی   نہیں اور نہ اس بنیاد پر عورت طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
  2. عنین اس مرد کو کہتے ہیں جومستقل نامردی کا شکار ہو، یعنی ازدواجی تعلق قائم کرنے پر قادر نہ ہو،اس کا حکم یہ ہوتاہے کہ قاضی بیوی کے مطالبے پر شوہر کوایک سال تک مہلت دے گااگر اس دوران شوہر ازدواجی تعلق قائم کرنے پر قادرنہ ہواتواس کاعنینہوناثابت ہوجائے گا اور قاضی دونوں کے درمیان نکاح فسخ کرےگا،لہذا مذکورہ صورت میں جب تک عنین ہوناثابت نہیں ہوتااس وقت تک بیوی کواپنے آپ کو طلاق دینے کااختیار نہیں ہوگا۔
  3. سائل عرفانامرد نہیں، کیونکہ مردانگی کی واضح علامت : مکمل انتشار،پایاگیاہے۔
  4. مذکورہ صورت میں بیوی اپنے آپ کو طلاق نہیں دےسکتی،شوہر کو ایک سال کی مہلت دینی ہوگی۔
  5. مہر کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ ہوئی ہو، تو پھر  بیوی  پورے مہر کی مستحق ہوتی ہے، اگرچہ صحبت نہ ہوئی ہو۔ مذکورہ صورت میں چونکہ خلوت صحیحہ ہوچکی ہے،لہذابیوی مکمل  مہر کی حقدار ہوگی۔
حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 494):

(هو) لغة من لا يقدر على الجماع فعيل بمعنى مفعول جمعه عنن. وشرعا (من لا يقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 133):

هو الذي إذا جذب المرأة أنزل قبل أن يخالطها ثم لا تنتشر آلته بعد ذلك لجماعها وهو من قبيل العنين لها المطالبة بالتفريق وإن كان يصل إلى الثيب دون البكر أو إلى بعض النساء دون بعض لضعف طبيعته أو لكبر سنه أو سحر فهو عنين في حق من لا يصل إليها لفوات المقصود.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 134):

(قوله وأجل سنة لو عنينا أو خصيا)

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 498):

ويؤجل من وقت الخصومة ما لم يكن صبيا، أو مريضا أو محرما، فبعد بلوغه وصحته وإحرامه،ولو مظاهرا لا يقدر على العتق أجل سنة وشهرين (فإن وطئ) مرة فبها (وإلا بانت بالتفريق) من القاضي إن أبى طلاقها (بطلبها) يتعلق بالجميع.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 495):

(قوله: فرق الحاكم) وهو طلاق بائن كفرقة العنين بحر عن الخانية، ولها كل المهر.

ملتقى الأبحر (ص514):

وإذا خلا بها بلا مانع من الوطيء حسا أو شرعا أو طبعا كمرض يمنع الوطء... لزمه تمام المهر ولو كان خصيا أو عنينا وكذا لو كان مجبوبا.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

14/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب