| 89872 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
والد کا بیٹوں کے حق میں وصیت اور میراث کی تقسیم
والد صاحب کا انتقال آٹھ سال پہلے ہوا تھا،انتقال کے وقت ہم(5) بھائی تین بہنیں اور والدہ اور دادی جان شرعی وارث تھے بیٹیوں کو والد صاحب نے زندگی میں کچھ جائیداد ہبہ کر دی تھی اور قبضہ بھی دے دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد بھائیوں کو بھی بتا دینا،کیوں کہ والد صاحب کے تصرف میں بھائیوں کی کمائی بھی تھی اور اس وجہ سے بھی کے بعد میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں ،لیکن بھائیوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔اس کے علاوہ مالِ وراثت کی وصیت کی تھی جو وصیت کے مطابق تقسیم کردیاتھا اور وصیت بیٹوں کے لیے کی تھی، ہر بٹیے کو شہر میں دو جگہیں دی گئی۔ بڑے اور چھوٹے والےبٹیے کو تین جگہیں دی گئی ۔ تقسیم اس طرح کی کہ والد صاحب کی جتنی جائیداد تھی مختلف جگہوں میں سب بھائیوں نے اپنے حصے کی زمینیں لی اور جن کے حصے میں زیادہ آیاتودسروں نے ہبہ کردی ۔وصیت کا علم سب وارثوں کو نہیں تھا ،بلکہ والدہ اور دو ہمشیرہ اور چھوٹے بھائی کو وصیت کا علم تھا کیونکہ وہ ساتھ رہتے تھےلیکن وصیت پر سب وراث راضی تھے۔اس کے علاوہ گاوں میں کچھ زمین ہے جوابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہےاس کے بارے میں وصیت نہیں کی تھی۔
تنقیح:سائل کا کہناہے کہ یہ تقسیم جو کی ہے یہ صحیح ہے یانہیں، اس کے بارے میں رہنمائی فرمادیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کےوالد کا اپنی ذاتی ملکیت سےآپ کی بہنوں کو کچھ جائیداد ہبہ کرنا شرعاً جائز ہے۔ البتہ ان کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ بیٹوں کےحصے میں سے بھی ہبہ کریں، تاہم اگر بیٹوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو اوروہ راضی ہوں تو یہ بیٹوں کی جانب سے بہنوں کے حق میں ہبہ شمار ہوگا ۔
البتہ اگر مورث نےکسی وارث کے حق میں وصیت کی ہوتووارث کے حق میں وصیت قبول نہیں الایہ کہ دیگر ورثہ راضی ہوں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر تمام ورثہ والد کی وصیت پر راضی ہوں تو وصیت کے مطابق کی گئی تقسیم درست اور معتبر ہوگی۔
اس کے علاوہ جو زمین یا جائیداد ایسی ہے جس کے بارے میں والد نے کوئی وصیت نہیں کی تو وہ تمام ورثہ کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 264):
للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 447):
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 90):
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 650):
وأن يكون بمقدار الثلث) أي إن كان ثمة وارث ولم يجزها بالأكثر وبما قررناه ظهر أن هذه الشروط بعضها شروط لزوم وهي ما توقفت لحق الغير ونفذت بإجازته.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 656):
(إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
01/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


