| 89940 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
دادا کے کاروبار میں پوتے کی محنت کے معاوضہ کاحق
ایک پوتا ہے جس نے دادا کےساتھ کاروبار میں کام کیا، اس کے کام کا کوئی مالی بدلہ نہیں دیا گیا،جبکہ کاروبار میں نفع بھی ہوا اور بیٹے )یعنی داداکےبیٹے ) اس سے مستفید ہوئے۔ پوتااب سوال کر رہا ہے کہ کیا اس کی محنت کا کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں؟ کیااس کو شریعت کے مطابق دادا سے اپنی محنت کا کوئی معاوضہ طلب کرنے کا حق ہے؟ جبکہ یہ میراث کا مسئلہ نہیں بلکہ زندہ دادا کے کاروبار میں کی گئ محنت کے معاوضہ کا حق طلب کرنے سے متعلق سوال ہے۔
تنقیح:سائل کاکہناہے کہ میں نے دادا کےساتھ تقریباً بارہ سال کام کیا،داداکےساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھاپہلے سے کہ آپ مجھے ماہانہ کچھ دوگے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں پوتے کا اپنے دادا کے ساتھ کاروبار میں کام کرنا شرعاً معاونت اور تبرع ہے، کیونکہ نہ تو ابتداءً کوئی اجرت طے کی گئی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا باقاعدہ معاہدہ موجود تھا جس کی بنیاد پر اجرت کا استحقاق ثابت ہو،لہذاپوتااس پر داداسے معاوضہ کامطالبہ نہیں کرسکتا۔البتہ اخلاقی لحاظ سے داداکوپوتے کی دلجوئی کرنی چاہیے اور اس کی محنت کے پیش نظر اس کی مناسب مالی مدد بھی کرنی چاہئے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 325):
لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 18):
وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 325):
ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
06/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


