| 89546 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ڈیجیٹل تصویر کاحکم
جامعۃ الرشید کے علماء کرام ڈیجیٹل تصویر کو جائز قرار دیتے ہیں اور اس کو قیاس کرتے ہیں عکس پر ،یعنی مقیس ہوا ڈیجیٹل تصویر اور مقیس علیہ ہوا آئینہ پرآنے والی تصویر کے مشابہ چیز ۔آگے فرماتے ہیں کہ نمبر دویعنی مقیس علیہ بالاتفاق جائز ہے ،تو نمبر ایک بھی جائز ہونا چاہیے۔میرا اشکال یہ ہے کہ نمبر دو یعنی مقیس علیہ ایسی چیز ہے جو انسان کے اختیار میں نہیں ہے ،یعنی انسان کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ آئینہ کے سامنے آئے اور تصویر نہ بنے بلکہ تصویر ضرور بنے گی ،جب یہ غیر اختیاری ہے تو اس پر احکام شرعیہ (مباح،مستحب،واجب ،فرض ،مکروہ،حرام)لا گو ہونے کا احتمال ہی نہیں ،اب سوال یہ ہے کہ مقیس اور مقیس علیہ میں دو طرح بہت زیادہ فرق ہے۔ (الف)مقیس اختیاری فعل اور مقیس علیہ غیر اختیاری (ب) مقیس میں احکام شرعیہ لاگو ہونے کا احتمال ہے جبکہ مقیس علیہ میں احکام شرعیہ لاگو ہونے کا بالکل احتمال نہیں،تو کیا اتنا زیادہ فرق کے بعد بھی قیاس درست ہوگا ، جبکہ تصویر جو کہ کاغذ پر پرنٹ ہوئی ہو اس کے حرام ہونے کی علت اللہ کی مخلوق سے مشابہت ہے ،یہ علت ڈیجیٹل تصویر میں بھی موجود ہے ،لہذا اللہ تعالی کی مخلوق سے مشابہت والی علت کو دیکھ کر ڈیجیٹل تصویر حرام ہونی چاہیے، اگر ہمارےجامعۃ الرشید کے علماءکرام مناسب سمجھیں تو میرے اس اشکال کا جواب دے دیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علماء کرام کے تین قسم کے آراء ہیں:
1۔ بعض علمائےکرام ڈیجیٹل تصویر کوبھی حقیقی تصویر کےحکم میں قرار دیتے ہیں۔
2۔ بعض علمائےکرام کے نزدیک اس پرحقیقی تصویر کےاحکام کااطلاق نہیں ہوتا۔
3۔ ڈیجیٹل تصویر بھی اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے، البتہ اس کےتصویر ہونے یانہ ہونے میں چونکہ ایک سے زائد فقہی آ راءموجود ہیں ،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیسا کہ دین اسلام کے خلاف پروپیگنڈو ں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اور معتبر دینی یا دنیاوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلاعریانیت، موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہو اور یہی جامعۃ الرشید کےدارالافتاء کا موقف ہے، نہ کہ مطلقاجواز کا۔
البتہ جوحضرات ڈیجیٹل تصویر کےجواز کےقائل ہیں ان کےرائےمیں ڈیجیٹل تصویر،شرعی ممنوع تصویرمیں شامل نہیں ،کیونکہ شرعی ممنوع تصویر وہ ہے جو کسی سطح پر قائم و پائیدار ہو اور اسے استقرار حاصل ہو۔لہذا "اللہ کی مخلوق سے مشابہت"تصویر کی حرمت کی علت ہے اور جب تک یہ بات ثابت نہیں اس وقت تک اس پرتصویرکیحرمت کاحکم کیسے چسپاں ہوسکتاہے ؟اسی طرح ڈیجیٹل تصویر بعینہ عکس بھی نہیں،کیونکہ عکس درحقیقت ذوالعکس (یعنی جس چیز کاعکس ہے اس)سے ٹکرا کرصیقل (چکنی)سطح سےمنعکس ہونے والی روشنی کا نام ہے ،جبکہ یہاں اسکرین پر نظر آنے والی شعاعیں بعینہ وہ نہیں ہے جوذوالعکس سے ٹکراکر منعکس ہوتی ہیں،لہذا ڈیجیٹل تصویر کےجوازکےقائلین کاقیاس عکس اورڈیجیٹل تصویر میں عدم استقرار میں مشابہت پر ہے۔اس پر نہیں کہ اختیاری ہے یااضطراری۔مقیس اورمقیس علیہ کا من کل الوجوہ ایک طرح ہونایاہرہرچیزمیں دوسرے کے مشابہ ہوناضروری نہیں ہوتا۔لہذا جیسے عکس میں استقرار نہیں ہوتا اسی طرح ڈیجیٹل تصویر کی شعاعوں میں استقرار نہیں ہے، بخلاف پرنٹ تصویر کےکیونکہ اس میں استقرار ہوتا ہے۔
حقیقی تصویر کے ساتھ اتنی مشابہت آئینہ میں نظر آنے والے عکس کو بھی ہے کہ دیکھنے میں اصل کی طرح نظر آتا ہے اور اس میں بھی انسان کےصنع کا دخل ہے کہ وہ باقاعدہ آئینہ کے سامنے آتا ہے یا باقاعدہ آئینہ لگا کر کسی جانب کے عکس کو دیکھا جاتا ہے ،بلکہ آئینہ بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس میں عکس نظر آئے ۔جبکہ اس کے برعکس حقیقی تصویر کا بنیادی وصف یعنی قیام اوراستقرار اس میں موجود نہیں بلکہ بالکلیہ مفقود ہے، کیونکہ حقیقی تصویر کو اپنی ذات میں بقاء ہوتی ہے جب تک کسی عمل کے ذریعے اس کو مٹا نہ دیا جائے وہ باقی رہتی ہے ،عکس اور حقیقی تصویر میں یہی چیزمابہ الفرق ہے۔یعنی پائیداری اور بقاءکافرق عکس اورحقیقی تصویر کوایک دوسرے سے الگ کرتاہے۔اسی طرح یہی فرق ڈیجیٹل تصویر اور حقیقی تصویر کوالگ کرتاہے ۔اگرکسی کویہ بات سمجھ میں آتی ہے توفبہاورنہ یہ مسئلہ مجتہدفیہاہے،لہذاہرایک کے ذہن کااس بات کو قبول کرنالازم نہیں ،اسے اپنے اجتہاد پر عمل کرناچاہیے۔
حوالہ جات
مسند أحمد (5/ 23 ط الرسالة):
كل مصور في النار، يجعل له بكل صورة صورها نفس تعذبه في جهنم " فإن كنت لا بد فاعلا، فاجعل الشجر وما لا نفس له.
مسند الحميدي (1/ 284):
إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله عز وجل قالت: فقطعنا منه وسادة أو وسادتين.
تكملةفتح الملهم (164/4):
أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة كحاجتها في جواز السفر، وفى التاشيرة، وفى البطاقات الشخصيّة أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هويّة المرء، فينبغي أن يكون مرخصا فيه. فإن الفقهاء رحمهم الله تعالى استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة قال الإمام محمد في السير الكبير: وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله وأعقبه السرخسي الله في شرحه : بقوله: لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة كما في تناول الميتة. وذكر السرخسي أيضا: ( إن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمنع أحد عن المعاملة بذلك.وقال في موضع آخر من شرحه.لابأس بأن يحمل الرجل في حال الصلاة دراهم العجم، وإن كان فيها تمثال الملك على سريره وعليه تاجه . وقد ثبت بالأحاديث الصحيحة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أجاز لعائشة رضى الله عنها اللعب بالبنات ،وإن الفقهاء أباحوا للمرأة أن تكشف عن وجهها عند الشهادة.
الفتاوى الشرعية في مسائل العصرية(456):
التصوير محرم؛ لما ثبت في الأحاديث الصحيحة عن رسول الله من لعن المصورين وإخباره بأنهم أشد الناس عذابًا؛ وذلك لكونه ذريعة إلى الشرك، ولما فيه من مضاهاة خلق الله، لكن إذا اضطر إليه الإنسان لوضع الصورة في حفيظة نفوس أو جواز سفر أو استمارة اختبار أو إقامة أو نحو ذلك رخص له فيه بقدر الضرورة إن لم يجد مخلصاً من ذلك، وإن كان في وظيفة ولم يجد له بداً منها أو كان عمله لمصلحة عامة لا تقوم إلا به رُخص له فيه للضرورة ؛ لقول الله : وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضطررتُمْ إِلَيْهِ([الأنعام: ١١٩).
فتاوى معاصرة(699):
فهذه العملية عملية حبس الظل أو عكسه، ليس كما يفعل النحات أو الرسام ، ولذا فهو لا يدخل فى الحرمة... هذا التصوير كما ذكرت لا شيء فيه ، بشرط أن تكون الصورة نفسها التي يلتقطها أو يعكسها حلالا .. فلا يصور امرأة عارية أو شبة عارية أو مناظر لا تجوزشرعاً...وهناك حالات ضرورية يبيح فيها التصوير حتى أشد المتزمتين،مثل صورالهوية أو جواز السفر أو صور المشبوهين .
حكم التصوير من منظورإسلامي(ص:89):
والحاصل أن تصاوير الحيوانات تحرم إجماعاً إن كانت كاملة لها ظلّ مما يطول استمراره بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيواناً، وبخلاف ما لا ظلّ له كنقش فى ورق أو جدار. وفيما لا يطول استمراره.
تكملةفتح الملهم(164/4):
أما التلفزيون والفديو، فلاشك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من أسباب الفسوق ولكن هل يتأتى فيهما حكم التصوير بحيث إذا كان التلفزيون أو الفيديو خاليا من هذه المنكرات بأسرها هل يحرم بالنظر إلى كونه تصويرا ؟ فإن لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه فيه وقفة. وذلك لأنّ الصُّورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة الاستقرار على شيئ، وهي الصورة التي كان الكفار يستعملونها للعبادة. أما الصورة التي ليس لها ثبات واستقرار، وليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فإنها بالظلّ أشبه منها بالصورة. ويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة "فيلم". فإن كانت صور الإنسان حيّة بحيث تبدو على الشاشة فى نفس الوقت الذي يظهر فيه الإنسان أمام الكيمرا فإن الصورة لا تستقر على الكيمرا ولا على الشاشة، وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها الأصلي، ثم تفنى وتزول. وأما إذا احتفظ بالصورة فى شريط الفيديو، فإن الصور لا تنقش على الشريط وإنما تحفظ فيها الأجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فإذا ظهرت هذه الأجزاء على الشاشة ظهرت مرة أخرى بذلك الترتيب الطبيعي، ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة، وإنما هي تظهر وتفنى فلايبدو أن هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شيئ بصفة مستقرة أو دائمة وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة الله امرأ هداني للصواب في ذلك، والله سبحانه أعلم.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
03/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


