03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل کیمرہ ہیک کرکےممنوع مشاہدہ کا حکم (کسی کا موبائل کیمرہ ہیک کرکے خفیہ سرگرمی کیمرے میں دیکھنا)
89919جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

موبائل کیمرہ ہیک کرکےممنوع مشاہدہ کا حکم

اگر کوئی انسان موبائل کیمرہ ہیک کر لیتا ہے اورکسی دوسرے  انسان کو ایسی  حالت میں کیمرے میں دیکھ لیتا ہے جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی   اور جس کا کیمرہ ہیک ہواور  اس کو اس بات کا قطعی علم نہ ہو، تو سزااسلام دونوں کو دے گا۔اگر معلوم کرنا ہو کہ کیمرہ ہیک تھا یا نہیں؟ یا دیکھنے والے نے دیکھا، تو کیا استخارے سے معلوم کرنا جائز ہوگا؟برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کا موبائل کیمرہ  ہیک کرنااور اس کی اجازت کے بغیر اس کی کسی بھی قسم کی تصویریاویڈیوحاصل کرنا حرام ہے خاص طور پر اگر اس میں بے پردگی یافحش مواد حاصل کرنے کاذریعہ ہو ،ایساشخص آخرت میں سخت سزاکا مستحق ہے ۔حکومت کوچاہیے  کہ وہ جرم ثابت ہونے پر ضابطے کے مطابق تادیبی کاروائی کرے۔

  جس شخص (مرد یا عورت) کا انجانے میں کیمرہ   ہیک کر لیا جائےاسے کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی نے ہیک کیاہے تواس کے خلاف قوانین کی روشنی میں مقدمہ کرناچاہیے  ۔تاہم اگر کوئی بات سامنے نہ آئی ہو تواس وہم میں پڑنادرست نہیں کہ شاید کسی نے ہیک کرلیاہو۔

یہ بھی یاد رہے کہ جرائم کاثبوت فال یا استخارے سے نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

مسند أحمد (21/ 53 ط الرسالة):

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما ‌عرج ‌بي ‌ربي مررت بقوم ‌لهم ‌أظفار من نحاس، يخمشون وجوههم وصدورهم، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس، ويقعون في أعراضهم.

مسند أبي يعلى - ت السناري (10/ 73):

عن أبي برزة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل إلإيمان قلبه، لا تغتابوا المسلمين، ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه من تتبع عورات المسلمين تتبع الله عورته حتى يفضحه في بيته".

تكملةفتح الملهم(164/4):      
أما التلفزيون والفديو، فلاشك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من أسباب الفسوق.

تفسير الطبري (21/ 374):

وقوله: {ولا تجسسوا}. يقول: ولا يتتبع بعضكم عورة أخيه، ولا يبحث عن سرائره، يبتغي بذلك الظهور على عيوبه.

تفسير الألوسي روح المعاني - ط العلمية (13/ 308):

ولا تجسسوا ولا تبحثوا عن عورات المسلمين ومعايبهم وتستكشفوا عما ستروه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 471):

والاستخارة أي في أنه هل يشتري أو يكتري وهل يسافر برا أو بحرا وهل يرافق فلانا أو لا لأن الاستخارة في الواجب والمكروه لا محل لها.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

08/شعبان المعظم  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب