03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو ”میری دوسری ماں ” کہنے کا حکم
89281طلاق کے احکامظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام

سوال

شوہر فون پر بات کررہے تھے، میں نے پوچھا نمبر دکھا، دکھایا تو وہ دوست کا نمبر تھا، میں نے کہا مجھے تم پر اعتبار نہیں،وہ بولا ''میری دوسری ماں نہیں''۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہےکہ تم میری ماں ہو؟

پھر میں نے شوہر سے پوچھا اس جملہ سے آپ کا مطلب اپنی ماں تھی؟ کہا: ہاں۔ میرے خیال سے شوہر بات کو صحیح سمجھا نہیں، چند گھنٹوں بعد میں نےدوبارہ پوچھا کہ آپ کی نیت کیا تھی وہ بولا میری نیت، میری ماں کی تھی جو نیچے موجود ہیں۔

میں نے پھر اسے کہا کہ تمہاری بات  کا مطلب یہ ہے کہ میری ایک بیوی ہے دوسری نہیں، اور جب یہ مراد ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم میری ایک ماں ہو دوسری نہیں؟ وہ بولا میرا مطلب یہ تھا کہ میری ایک ماں ہے جو نیچے ہیں تم میری بیوی ہو۔اب کیا یہ تشبیہ کہلاے گی یا نہیں رہنمائی فرما دیجئے   اور کفارے کے بارے میں کیا حکم ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کے قول ''میری دوسری ماں نہیں'' کا متبادر مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جس کو میں اپنی صفائیاں پیش کروں وہ صرف میری ماں ہے اور وہ ایک ہے دوسری نہیں، یعنی تم میری ماں نہیں ہو کہ میں تمہیں صفائی دینے لگوں۔مذکورہ صورت میں تشبیہ (ظہار) واقع نہیں ہوا اور نہ ہی کفارہ لازم ہے۔.

حوالہ جات

الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/466)

(تشبيه المسلم) فلا ظهار لذمي عندنا (زوجته) ولو كتابية، أو صغيرة، أو مجنونة (أو) تشبيه ما يعبر به عنها من أعضائها، أو تشبيه (جزء شائع منها بمحرم عليه تأبيدا) بوصف لا يمكن زواله.

الفتاوی الھندیۃ:(1/505)

الظهار هو تشبيه الزوجة أو جزء منها شائع أو معبر به عن الكل بما لا يحل النظر إليه من المحرمة على التأبيد ولو برضاع أو صهرية كذا في فتح القدير سواء كانت الزوجة حرة أو أمة أو مكاتبة أو مدبرة أو أم ولد أو كتابية.

البحر الرائق:(4/102)

(هو تشبيه المنكوحة بمحرمة عليه على التأبيد) أراد بالمنكوحة ما يصح إضافة الطلاق إليه من الزوجة وهو أن يشبهها أو عضوا منها يعبر به عنها أو جزءا شائعا منها لما سيأتي وأراد بالمشبه به عضوا يحرم إليه النظر من عضو محرمة عليه على التأبيد .

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

15/جمادی الآخرہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب