| 89483 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
میں نے خواب میں ایک شخص دیکھا ،جس کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سمجھ رہا ہوں اور اسی شخص کے پاس ایک خاتون آتی ہے جو کہ مجھے میری والدہ لگ رہی ہے تو اس شخص نے میری والدہ کے سر پر پیار دیا ،لیکن بیداری کے بعد وہ شخص ایک عام آدمی کی طرح محسوس ہو رہا ہے ۔ کیا اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت سمجھا جائے گا ؟کافی پریشانی والی بات بنی ہے میں اس کو کیا سمجھوں؟
نوٹ :یہ ساری صورتحال جو کہ میرے دماغ میں آرہی ہے،مجھے لگ رہا ہے کہ ایسا ہی دیکھا ہو گا جو بیان کیا ہے،چونکہ خواب ہےاس میں کچھ تبدیلی یا ردو بدل کا امکان موجود رہے گا اور میں کچھ وساوس کا شکار بھی ہوں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس حال میں ہو کہ دیکھنے والے کو واقعہ پوری طرح یاد ہو اور دل میں اس پر اطمینان و یقین بھی ہوتو ایسی زیارت برحق اور سچی ہوتی ہے۔ خواہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس مبارک حلیے میں ہو جو احادیث میں منقول ہے، یا کسی اور صورت میں دونوں صورتوں میں یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت شمار کی جائے گی، کیونکہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔البتہ اگر خواب دیکھنے والا تردد اور شک میں مبتلا ہو، تو ایسی حالت میں اس کو زیارت پر محمول نہیں کیا جائے گا ۔آپ جب اپنی والدہ کو بھی پہچاننے میں دشواری محسوس کر رہے تھے تو بظاہر یہ خواب زیارت نہ تھی ۔ آپ کے لیے مناسب ہے کہ عملی زندگی میں وسوسوں پر توجہ نہ دیں، زیادہ غور کرنے اور مفروضے قائم کرنے سے بھی وساوس پیدا ہوتے ہیں، وسوسوں سے بچنے کے لیے رجوع الی اللہ کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے دعا مانگیں، اور جب بھی وسوسے آئیں تو "أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" اور "لا حول ولا قوۃ إلا باللہ" پڑھنے کا اہتمام کریں۔
حوالہ جات
مسند أحمد (15/ 183 ط الرسالة):
قوله صلى الله عليه وسلم: "من رآني في المنام فسيراني في اليقظة" أو: "لكأنما رآني في اليقظة".قال أبو بكر ابن الباقلاني: معناه أن رؤياه حق ليست بأضغاث أحلام ولا من تخييل الشيطان، وإن رآه على غير الصفة التي كان عليها في الحياة.
فيض الباري على صحيح البخاري (6/ 439):
عن أبي هريرة قال سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول «من رآنى فى المنام فسيرانى فى اليقظة، ولا يتمثل الشيطان بى».
مسند أحمد (15/ 65 ط الرسالة):
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " الرؤيا ثلاثة: فبشرى من الله،وحديث النفس، وتخويف من الشيطان، فإذا رأى أحدكم رؤيا تعجبه، فليقصها إن شاء، وإذا رأى شيئا يكرهه، فلا يقصه على أحد، وليقم فليصل ".
المفاتيح في شرح المصابيح(1/ 155):
ترك الشيء، يعني فليقل: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، وليترك التفكُّر والشروع في هذه الوسوسة، وإن لم يقدر أن يزيل التفكر في هذه الوسوسة بالتعوذ فليَقُمْ عن مجلسه ذلك، وليشتغل بشيءٍ آخر، من تلاوة القرآن والحكايات وغير ذلك.
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02 /رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


