03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا حکم
89999طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا جس پر میں راضی نہیں ہوا۔ اس نے کہا ہے کہ اگر میں انکار کرتا ہوں تو وہ عدالت کے حکم پر خلع کی پیروی کرے گی۔ ہم امریکہ میں رہتے ہیں اور وہ بچوں کے ساتھ یہ کام کرنے کے لیے پاکستان جانا چاہتی ہے، جس سے میں نے اتفاق نہیں کیا۔ اس نے میرے خلاف کئی دعوے کیے ہیں، بشمول: کہ میں نے اسے جسمانی طور پر نقصان پہنچایا۔ وہ برسوں پہلے کے ایک واقعے کا حوالہ دیتی ہے اور جسے وہ اپنی گردن پر کیل کے نشان کے طور پر بیان کرتی ہے۔ میں اس سے متفق نہیں ہوں۔

دوسرا دعویٰ کہ میں نے ایک موقع پر اس کا فون چھین لیا۔ کہ میں ذہنی یا جذباتی طور پر بدسلوکی اور اکثر غصے میں تھا۔ میں اس سے  بھی متفق نہیں ہوں، اگرچہ میں نے بعض اوقات غصہ کیا ہے، لیکن میں نے اس کا اظہار کسی نقصان دہ یا براہ راست طریقے سے نہیں کیا۔ کہ میں نے ہیرا پھیری کی ہے اور اسے سالوں سے تکلیف میں مبتلا کیا ہے۔

ہمارے دو چھوٹے بچے ہیں، جن کی عمریں 4 اور 2 سال ہیں۔ میں نے اپنی کوتاہیوں کا بھی اعتراف کیا۔ میں نے طلاق جاری نہیں کی۔ کیا اس کی خلع کی درخواست اس تناظر میں درست ہے اور آگے بڑھنے کا واحد آپشن ہے؟

خلع کے ذریعے نکاح کو ختم کرنے کے کیا تقاضے ہیں، خاص طور پر اگر شوہر خلع دینے پررضامند نہ ہو اور کوئی نقصان یا حقوق پامال نہ ہو رہے ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عقد نکاح شریعت میں ایک مقدس رشتہ ہوتاہے جس کو حتی الامکان ہمیشہ کے لیے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ اگر میاں بیوی کے آپس میں نباہ ممکن نہ ہو تو شریعت نے بیوی کو خلع کے ذریعےنکاح ختم کرنے کاحق دیاہے،خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنا  میاں بیوی کے آپس کا معاملہ ہوتا ہے  اورباہمی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے، لہذا مذکورہ سوال میں   آپ کےبیان کے مطابق اگر واقعی  آپ کی  بیوی کے حقوق پامال نہیں  ہورہے اور نہ اس کوآپ کی طرف سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اورآپ   خلع کرنے پر راضی بھی نہیں ہے تو ایسی صورت میں آپ کی بیوی کی خلع کے لیے درخواست دائر کرنا  اس تناظر میں درست نہیں ہے اورنہ وہ  بلاکسی وجہ سے خلع کے ذریعے نکاح کو ختم کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين  (3/ 440)

فقالت: ‌خلعت ‌نفسي ‌بكذا، ‌ففي ‌ظاهر ‌الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.

وفي الفتاوى الهندية (1/ 488)

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا   فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.

صدام حسین

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

18/شوال 1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب