| 89993 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک شخص عابد کا والد فوت ہو گیا،انہوں نے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں، دو بھائی، ایک بہن اوردو پوتیاں چھوڑے ہیں۔اب ان کی میراث کیسےتقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحوم کے بیٹے زندہ ہیں،اس لیے ان کی موجودگی میں میت کے بھائی مستحق نہیں ہوں گے،اسی طرح میت کی بہن اور پوتیوں کا بھی حصہ نہیں ہوگا،لہذا مرحوم کے شرعی طور پر ورثاء ایک بیوہ، دو بیٹیاں اورتین بیٹے ہیں۔
میراث کی تقسیم کے لیے پہلے مرحوم کےکل ترکہ (جو کچھ نقدی ، چھوٹا بڑا سازوسامان اور جائیداد چھوڑی ہو) سے ان کی تجہیز و تکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرض ہو (بیوی کا مہرادا نہ کیا ہوتو وہ بھی دَین یعنی قرض میں شامل ہے) تو وہ ادا کیا جائے ، پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ بچ جائے اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودمذکورہ بالا چھ ورثاء میں تقسیم کیاجائے گا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہے کہ مرحوم کےکل ترکہ کے 64حصے بنائیں جائیں،ان میں سے 8حصے بیوہ کوملیں گے،اورباقی 56میں سے ہر ایک بیٹی کو 7حصے اورہر بیٹے کو 14حصےملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے بیوہ کاحصہ 12.5%، ہر بیٹی کا 10.9375% اور ہرایک بیٹے کا 21.875% ہوگا۔ذیل میں تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ ہو:
|
نمبرشمار |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوہ |
8 |
12.5% |
|
2 |
بیٹی |
7 |
10.9375% |
|
3 |
بیٹی |
7 |
10.9375% |
|
4 |
بیٹا |
14 |
21.875% |
|
5 |
بیٹا |
14 |
21.875% |
|
6 |
بیٹا |
14 |
21.875% |
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 773):
العصبات النسبية ثلاثة :عصبة بنفسه ،وعصبة بغيره وعصبة مع غيره .(يحوز العصبة بنفسه ،وهو كل ذكر)، فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها، أو مع غيرها (لم يدخل في نسبته إلى الميت أنثى)،فإن دخلت لم يكن عصبة كولد الأم؛ فإنه ذو فرض ،وكأبي الأم وابن البنت؛ فإنهما من ذوي الأرحام (ما أبقت الفرائض) أي جنسها،(وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة. ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف:جزء الميت، ثم أصله، ثم جزء أبيه، ثم جزء جده.(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب، فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ،ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/شوال /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


