| 88161 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
ہمارے ایک رشتے دار فوت ہوئے ہیں ،ان کی اولاد بھی نہیں ہے اور نہ ہی والدین ہیں ۔ایک بیوی اور بہن ان کی وارث ہیں ۔ انھوں نے اپنی زندگی میں اپنی ساری جائیداد کا تقریباً 10 سے 12 گواہوں کی موجودگی میں اپنے ایک عزیز کو ہبہ کر دی تھی ،لیکن تحریراً لکھ کر نہ دے سکے ،اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کی جائیداد بہن ،بیوی کو ملنے کے بعد اس شخص کو ملے گی جسے ہبہ کر گئے یا سوتیلے چچا ( مرحوم) کے بیٹوں کو ؟ براہ کرم اس مسئلہ کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں ۔جزاک اللہ خیرا کثیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنی زندگی میں کسی کوجائیداد دینا ہبہ ہے،اور ہبہ میں قبضہ ضروری ہے،اس لیے اگر اس شخص نے قبضہ بھی دیا ہو اس طور پر کہ اس جائیداد سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکرعزیز کے حوالے کردیا ہو تویہ جائیداد اس عزیز کی ملکیت میں آگئی ہے،وہ تمام جائیداد کا مالک ہوگا،بیوی اور بہن کو بھی حصہ نہیں ملے گا،اگر قبضہ نہ دیا ہو بلکہ فقط زبانی بات کی ہوتو پھر یہ جائیداد اس عزیز کی ملکیت میں نہیں آئی ہے،لہذا وہ میراث کا حصہ بن کر ورثہ کے درمیان اپنے حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ورثہ میں بیوی ،بیٹی اور چچا کے بیٹے شامل ہیں۔
حوالہ جات
وفي الدرالمختار(6/259):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك
واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها"…
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
24/ محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


